تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 56 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 56

۵۶ وکان لوٹی گئی ہے مگر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہا کہ یا الہی آپ تقدیر کو ٹال بھی سکتے ہیں۔اس کے بعد ایک دن ایک نہایت ہی مشتعل ہجوم ہماری بند دکان دیکھ کر تالے توڑنے لگا۔مگر ہمارے سامنے والی دکاندار جو ہمارے ہمدرد اور جوان بلکہ پہلوان ہیں وہ کھڑے ہو گئے کہ ایسا ہرگز نہیں کرنے دیں گے۔اس طرح وہ دکان بفضل تا پنچ گئی۔ویسے بھی ہم کافی مال نکال کر ادھر ادھر کر چکے تھے۔ایک روز ایک بڑا بھاری بجلوس نکلا۔اس روز بڑا خطرہ پیدا ہو گیا کہ آج یہ ھر دوکان پر حملہ کریں گے مگر اللہ تعالیٰ نے جو ہر مشکل میں اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔اس موقعہ پر بھی اپنی رحمت کا نشان دکھایا اتفاق سے قریباً دس بارہ عورتیں برقعہ پوش راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہماری دکان کے سامنے چبوتر سے یہ ایک لائن کی شکل میں کھڑی ہو گئیں۔اسطرح ان کا حوصلہ نہ پڑا اور جلوس نکل گیا۔دن بدن خطرہ بڑھتا گیا اور ہم نے دکان پر آنا بند کر دیا اور گھر میں محبوس ہو گئے بلکہ مسجد میں جانا بھی بند ہو گیا۔گھر پر پیغام جا نے لگے احمدیت چھوڑ دو ورنہ میز نہیں بلکہ رشتہ دار بھی دھمکانے لگے۔ہاں ابھی دکان پہر کا روبار کرتے ہی تھے کہ ایک روز نہ بر دستی کہا گیا کہ تم اپنے بور ڈپر مرزائی کلاتھ ہاؤس لکھواؤ۔خاکسار نے کہا ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔جمعہ کے دن جب کہ چھٹی ہوتی ہے انہوں نے سفید پینٹ بورڈ پر پھیر کر اس کے اوپر مرزائی کلاتھ ہاؤس لکھ دیا۔خیر میں نے کہا کہ چلو دیکھو۔اس طرح بھی خدا رزق دیتا ہے یا نہیں۔بفضل خدا پھر بھی گاہک سودا لیتے ہی رہے۔دوران فساد میں دو دفعہ ہماری پوری بھی ہوئی۔وہ ایسے کہ ایک روزہ مولوی نما چند آدمی آئے۔مجھے دھیان میں لگا کہ سمر کا ایک ٹکڑالے گئے جو قریباً ۱۵۰ روپے کا تھا۔ایک دو آدمی آئے اور کپڑا کٹوا کر جھگڑا کر کے چل دیئے۔ایک تو کپڑا کٹوا کر چھوڑ گئے دوسرے ایک پاپلین کا تھان اُٹھا کر لے گئے۔اب ان کے پیچھے جانا یا اُن کو پکڑنا ہمارے بس کی بات نہ تھی کیونکہ اگر پکڑتے تو جھگڑا شروع ہو جاتا۔غرضیکہ ہر طرح کی تکلیف اٹھا کر بھی مخالفین کے لیے فساد کا کوئی موقعہ پیدا نہ ہونے دیا۔ہم بارہ دن تک اپنے گھر پر محبوس رہے۔آخر کے تین دن تو نہایت خطر ناک حالت میں گزر ہے۔آخری دی سے پہلی رات کو میری لڑکی عزیزہ زہرہ بیگم سلما اللہ تعالیٰ نے خواب