تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 55
کا اُن کے دل میں بیٹھ رہا تھا وہ دُور ہو گیا اور پھر انہیں جرات نہ ہو سکی کہ وہ آگر در دازه توڑیں۔- اسی دن بابو عبد الکریم صاحب پوسٹما سٹر اور ملک محمد افضل صاحب کے مکانوں کو لوٹ لیا گیا۔اس کے بعد فوج کے آجانے سے حالت آہستہ آہستہ سدھرنے لگی۔اسی دن مرکز سے ایک خط آیا کہ مضبوطی سے ایمان پر قائم رہیئے۔مصیبتوں کے بادل عنقریب پھٹ جائیں گے۔۔بدھ کو پہلے روز ہم نے دکان کھولی۔رہی پہلے سے اہتمام کے ساتھ۔یوں محسوس ہوا گویا نئی زندگی مل گئی۔ہرگز رنے والا یوں نظریں اٹھا اٹھا دیکھتا گویا اُسے ہماری زندگی پر یقین نہیں۔جیسے وہ خواب دیکھ رہا ہو۔جیسے اُنہیں امید ہی نہیں منتھی کہ یہ دکان جو ایک بار بند ہو گئی ہے پھر بھی کبھی کھلے گی۔وہ ملا جو فسادات سے قبل ہی احمدیت کی تباہی کے خواب دیکھا کرتا تھا اس کی ہومی فوت ہو گر گھر ویران کر گئی۔جس کی معرفت آیا کرتا تھا اس کی بیوی بھی فوت ہوگئی۔اس کی ساری کمائی بیماری پر لگ گئی تھی۔اب بچوں کا بوجھ آن پڑا۔جس دکان پر بیٹھ کر سکیمیں سوچی جاتی نھیں دہ دکان اس سے چھن گئی مگر احمدیت کا سورج جب ان بادلوں کے چھٹ جانے کے بعد نظر آیا تو وہ پہلے سے زیادہ آب و تاب سے نکلا " ۱۵ - کرم محمد شفیع صاحب کھو کھر مالک وہی کلاتھ ہاؤس کا بیان ہے کہ۔: جب احرار شورش نے دروں پر تھی اور ہر طرف سے مخالفت کا زور دن بدن بڑھتا گیا سب دکاندار اور رشتہ دار بلکہ شہر کا اکثر حصہ ہماری مخالفت میں اُٹھ کھڑا ہوا اور یہاں تک کہا گیا کہ ہم دکان بند کرا دیں گے۔ہماری دکان کے سامنے کھڑے ہو کر گاہکوں کو کہا کہ ان مرزائیوں سے سودا مدت لو۔بعض دفعہ کپڑا کٹوایا ہوا واپس کرا دینا۔ہم خاموشی سے کاٹا ہوا کپڑا واپس لیتے۔اور بعض احراری دکان کے سامنے کھڑے ہو کر فحش گالیاں دیتے مگر ہم نہایت مہر سے کام لیتے ہوئے دن گزار جاتے۔الحمد للہ پھر بھی شام کو کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھا کر ہی جاتے اسی طرح ہر یہ وہ جلوس نکلتے اور ہماری دکان کے سامنے خاص کر کھڑے ہو کرنا چھتے کودتے اور گالیاں نکالتے۔ایجی ٹیشن کے شروع ہونے سے قبل کئی دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ہماری