تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 51
ہیں۔تم ۷۲ فرقوں نے اکٹھے ہو کہ خود بخود ، دیں اور ناجی فرقہ کی نشان دہی کر دی ہے ایک بن کر حملہ کرنے کا ارادہ کر کے فرعون اور جنگ احزاب کا نقشہ پیش کر دیا ہے اور کسر کیا رہ گئی ہے۔وہ ملا بہت کہا کرتا۔ہم لوگ تمہیں قتل کر دیں گے۔مکان جلا دیں گے۔اسباب لوٹ لیں گے بہتر ہے کہ تم مسلمان ہو جاؤ مگر ہم یہی کہتے رہے کہ وقت خود بخود نتائج ظاہر کر دے گا اور بتا دے گا کہ حق پر کون اور ناراستی پر کون ہیں۔خدا تعالیٰ کن کے ساتھ ہے اور کون خدا تعالیٰ کے دشمن ہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ ہم یہیں رہیں گے۔مگر تم ایسے نہ رہو گے۔لاہور آمدہ خبروں کی وجہ سے شہر میں کشیدگی اور اضطراب بڑھتا جاتا رہا۔ہمارے خلاف نفرت اور بغض کے مظاہر ے تو ان بورڈوں سے ہوتے ہی تھے جو تقریبا ہر دکان پر اسلامیانِ پاکستان کا متفقہ مطالبہ کے محرک تھے پہ مرند انیوں کا مکمل بائیکاٹ کرو۔اور مراز نیوں کے برتن علیحدہ ہیں۔لگائے گئے تھے۔بعض ہوٹل والوں نے برتن بھی علیحدہ رکھ لیے تھے۔ان بورڈوں سے خواہ مخواہ احمدیوں کیخلاف نفرت اور تعصب پڑھتا تھا اور مقرروں نے تقریروں میں یہ کہا ہوا تھا کہ مرزائی بیوہڑوں اور کتوں سے بھی بدتم ہیں۔اب اس کا رد عمل برتنوں کی علیحدگی اور سوشل بائیکاٹ کے بورڈوں کے سامنے آجانے سے کدورت کی شکل اختیار کہہ رہا تھا۔- جمعہ کی نماز کے وقت تک ایسی حالت ہو گئی تھی کہ مسجد میں جاتا خالی از خطرہ نہ دکھائی دیتا تھا۔جونہی ہم لوگوں پر اُن کی نظر پڑتی وہ مرزائی مرزائی پکارتے۔گالیاں نکالتے گند کہتے آوازے کستے کوئی گندی سے گندی گالی نہ رہی جو ہمیں دی نہ جا چکی۔اور کوئی گندے سے گندے الفاظ نہ رہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت نہ کہے گئے۔مسجد میں نمازہ جمعہ کے لیے بہت کم احمدی جاسکے۔ہمارا قیافہ صحیح نکلا جمعہ کے بعد جلوس نکلنے لگے۔خطبوں میں خوب اُبھارا گیا تھا۔شہر بھر میں آگ پھیل گئی اور جلوس نکلنے لگے۔ہماری دکان مکان سے ملحق ہے۔جب جلوس آتے تو ہم دکان کو کھلا چھوڑ کر پیچھے مکان میں چلے جاتے مگر جمعہ کی نماز کے بعد جبکہ ملک محمد افضل صاحب ہماری دکان پر بیٹھے