تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 50
قتل سے آپ صاحبان دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں تو بندہ حاضر ہے۔یہ مسجد یہ شہادت زہے قسمت۔ایک مولوی صاحب نے قرآن کریم ایک مسجد کی الماری میں رکھ دیا اور مجھے مسجد کے اندر کر کے دروازے تمام بند کر دیئے۔نماز عصر سے فارغ ہو کر جستہ جسته آدمی دروازوں سے جھانک جھانک کر آنے شروع ہوئے۔مختلف اعتراض کرتے رہے جو کچھ مجھے آیا جواب دیا۔آخر میری رہائی کی تجاویز ہونے لگیں۔چونکہ ہمارے امیر صاحب کا گھر نزدیک تھا خطرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے تجویز کی کہ انہیں وہاں پہنچا دیا جائے خیر مجھے وہاں پہنچا دیا گیا اور امیر صاحب قبلہ کو ان الفاظ میں میرا محافظ بنایا کہ لو صاحب آپ اپنا بندہ سنبھالو یا م حضرت حکیم نظام جان صاحب قادیانی شما خود نوشت بیان ہے کہ : - یہ ہمارا امکان اور دکان مین چوک گھنٹہ گھر میں واقع ہیں وہ گلی جس کے کونے پر یہ مکان دکان واقع ہیں شروع میں حکام ضلع نے احمدیوں کے لیے مخصوص کی تھی گو پانچ مکانوں سے زائد پر احمدی قابض نہ ہو سکے لیکن لوگوں میں یہ گلی مرزائیوں کی گلی ہی کے نام سے مشہور ہے اور ہماری دکان کا اشتہار چونکہ الفضل میں باقاعدہ شائع ہوتا رہتا ہے اس لیے ہم خاص طور پر شناسا تھے کہ " یہ مرزائی ہیں"۔جن دنوں زمیندار اختبار میں ۲۲ فروری تک کی مہلت کا اعلان بڑے طمطراق سے شائع ہوا کرتا تھا ایک دیہاتی ٹائپ کا ملا ہماری دکان پر برابر بیٹھنے لگا۔وہ الفضل پڑھتا اور سلسلہ پر اعتراضات کرنے کے علاوہ ہمیں آنے والے خطر ناک طوفان سے بھی خوف ملا کہ بتاتا کہ اب مرزائیت چند روز ہے۔اب نہ یہ سلسلہ رہے گا نہ اس سلسلہ کے داعی۔اب سب اُمتِ مسلمہ تمہارے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔اب تم لوگوں کا بچنا مشکل ہے بہتر ہے کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ہم نے اُسے کہا کہ ان باتوں سے تم ڈرا کہ ہمیں احمدیت سے روکنا چاہتے ہو یہی باتیں ہمارے ایمان کو زیادہ کرنے والی ولادت: ۶۱۸۸۹ وفات : ۱۳ مئی ۱۹۷۲ ء