تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 574 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 574

مارچ ۱۹۵۳ء میں شدید اینٹی احمدیہ فسادات لاہور میں کئی روز تک بڑھتے چلے گئے جو مارشل لاو پر منتج ہوئے۔یہ پیچیدہ صورت حال لحضن احمدیوں کے عقائد کے ساتھ نارا مثل کی بناء پر ہرگز نہ ناراضگی ستی بلکہ در اصل یہ ایک یک طرفہ سیاسی رو متقی اس بحث کے متعلق جو کراچی میں چل رہی تھی کہ در فاقی نظام کی شکل کیا ہو۔اس کو اسلامی رنگ میں کیسے سمویا جائے اور پاکستان کے مجوزہ نئے آئین کی نوعیت کیا ہونی چاہیئے۔احمدی ایک مستعد گروہ ہیں جو تبلیغ میں ماہر ہیں۔اور موجودہ زمانے میں مندین مسلمانوں کا اکثر و بیشتر پراپیگنڈا جس کا مقابلہ عیسائی مبلغین کو ایشیا کے باہر مثلاً افریقہ وغیرہ میں در پیش ہے احمدیہ فرقہ ہی کی طرف سے کیا جاتا ہے۔حرف آخر ال آخر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ سہ کے بھاری ابتلاء کی ایک عظیم الشان برکت یہ بھی بھی کہ اس کے نتیجہ میں احمدیوں کی بے مثال اخلاقی قوت اور بلند کیریکٹر کا سکہ اپنوں اور بیگانوں پر بیٹھ گیا۔لہ کے فسادات کے موقعہ پر سمندری رضلع فیصل آباد) سے دو مولوی صاحبان بھاگ کر کوئٹہ پہنچے اور کئی بڑے لوگوں کے پاس پناہ کے لیے گئے کیونکہ مارشل لاء کی طرف سے ان کے دارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے تھے۔مگر کسی نے ان کو پناہ نہ دی۔آخرو، ایک احمدی ٹیچر ماسٹر عبدالحلیم صاحب کے پاس آئے۔انہوں نے انہیں اپنے مکان پر ٹھہرایا اور خوب خاطر و مدارات کی۔مولوی صاحبان نے احمدیت کے خلاف بھی باتیں کیں۔ماسٹر صاحب نامونٹی سے سنتے رہے۔دوسر سے روز ان مولویوں نے لوگوں سے، ذکر کیا کہ ہیں توماسٹر صاحب نے پناہ دی ہے جبکہ باقی مسلمان علماء اور امراء ہمیں پناہ دینے سے ڈر گئے۔لوگوں نے ان مولویوں کو بتایا کہ ماسٹر صاحب تو قادیانی ہیں۔مولوی صاحبان بہت شرمسار تھے۔اور رات کے کھانے پر ماسٹر صاحب سے جھینپتے ہوئے کہا کہ ہم نے بڑی زیادتی کی ہے مگر آپ نے نہایت اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دیا۔اگلے روز انہوں نے مسجد