تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 533
۵۳۱ دوسرا باب جماعت احمدیہ کی ترقی اور استحکام ۱۹۵۳ ء کے فسادات تو اس لیے رونما ہوئے تھے تا جماعت احمدیہ کو صفحہ روزہ گار سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا جائے مگر عملاً یہ ہوا کہ جماعت احمدیہ نے صبر و رضا کا بہترین نمونہ پیش کر کے نہ صرف خدا کے کئی نشان اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیئے بلکہ اللہ تعالی نے ان کی حقیر قربانیوں کو نوانہ تے ہوئے تائید و نصرت کے ایسے سامان پیدا کیئے کہ قائم شدہ جماعتیں پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئیں اور بعض نئی جماعتوں کا قیام بھی عمل میں آیا خصوصاً ربوہ کے ماحول میں چک منگلہ کے مشہور پر منور الدین صاحب کے خلیفہ مجاز الحاج حافظ مولانا عزیز الرحمن صاحب منگلا جیسے عالم ربانی نے حضرت مصلح موعود کے دست مبارک پر بیعت کرلی اور پھر ان کے ذریعہ ہزاروں مرید حلقہ بگوش احمد بیت ہوئے اور اس علاقہ یں يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ اَفَوَاجًا کا روح پر در نظارہ آنکھوں کے سامنے آگیا حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں :۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسّلام کے زمانہ میں یہ علاقہ جس میں ہمارا مرکز ہے اس میں کوئی احمدی نہیں تھا۔آپ کی وفات کے قریب عرصہ میں یہاں صرف ایک احمدی تھا لیکن اب ضلع جھنگ میں ہزاروں احمدی موجود ہیں۔سٹالہ میں جبکہ ہم ہجرت کر کے یہاں آگئے تھے اس علاقہ کے صرف پانچ چھ احمدی تھے۔لیکن دو تین ہزار احمدی ہو چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت میں داخل ہونے والے ایسے آسودہ لوگ ہیں کہ حیرت ه تاریخ وفات ۲۹ جون ۶۱۹