تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 532 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 532

۵۳۰ اور ملک غلام محمد صاحب مرحوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ :۔اگر تم۔۔۔۔۔عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کی ذمہ دار می اٹھالو ریعنی احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دو۔ناقل ) تو میں اپنی اس سفید ریش سے تمہارے پاؤں صاف کروں گا یا ٹ زندگی کے آخری ایام میں شاہ جی کے عقیدتمندوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک روارکھا وہ ایک عبرت انگیز داستان ہے جس کا پتہ ان کے مذکورہ انٹرویو سے ملتا ہے جو انہوں نے اپنی وفات سے قریباً ڈیڑھ برس قبل روزنامه امرونہ ملتان کے سٹاف رپورٹر کو دیا۔سٹاف کہ پورٹڈنے سوال کیا۔ان دنوں جب کہ آپ اس قدر بیمار ہیں اور پبلک لائن سے بھی ریٹائر ہو چکے ہیں کبھی دیرینہ رفقاء میں سے کوئی ملنے آیا ، - آپ جواب میں مسکرا دیے اور فرمایا :- جب تک یہ کتیا (زبان) بھونکتی تھی۔سارا بر صغیر ہند و پاک ارادت مند تھا۔اس نے مجھو کا چھوڑ دیا ہے تو کسی کو بیتہ ہی نہیں رہا کہ میں کہاں ہوں یا ھے مجلس احرار جو ۱۹۵۳ء کی تحریک میں نفس ناطقہ اور رواں بھی اپنوں کی نگاہ میں بھی لاشہ بے جان بن کے رہ گئی۔چنانچہ احرار کے سابق جنرل سیکر ڈی شورش کا شمیری صاحب کو لکھنا پڑا کہن یہ واقعہ یہ ہے کہ مجلس احرار به لحاظ جماعت تاریخ کے حوالے ہو چکی ہے اب اس کا ذہنی وجود تو بعض روایتوں اور حکایتوں کی وجہ سے ملک کے عوامی دماغوں میں موجود ہے لیکن (1) نہ اس کی کوئی تنظیم ہے۔(۳) نہ اس کا کوئی مربوط شیرازہ ن ہے (س) نہ اس فضا میں اڑنے کے لیے اس کے بال و پر ہیں۔ہ ہماری ایمانداری سے رائے ہے کہ اب احرار کا زمانہ بیت چکا ہے اور مرحوم ماضی میں زندگی بسر کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ا سکے که هفت رونده تنظیم الحدیث لاجور منہ کالم : سه امروز رعتان، ۱۵ اکتوبر ۱۹۶۱ء بجواله حیات امیر شریعہ م۲۲ موافقہ جناب غلام نبی صاحب جانیانه طبع انواع نومبر ۱۹۶۲ ۶ - ناشر مکتبه تبصره گلشن کالونی شاد باغ لاہور سے اختبار چٹان" لاہور ۲۵ مارچ ۱۳ ۱۹ عصف