تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 527
۵۲۵ مسئلہ تصنیف ہوا جس میں عوام کے مطالبات کی وجوہات اور ان کے دلائل کو مولانا مودودی صاحب نے پرزور انداز میں پیش کیا۔اس کتاب کے آخری پیرے میں یہ ار عوام پرستی جس طرح چھلکی پڑتی ہے وہ قابلِ دید ہے۔جذبہ عوام پرستی کی انتہاء ہے کہ ان خامیوں اور خرابیوں کو بھی خوشنما الفاظ کے پر دے میں چھپا کر پیٹھ ٹھونکی جارہی ہے کہ تم سے کچھ غلطیاں تو مز در سرزد ہو رہی ہیں لیکن گھراؤ نہیں ! اس میں تمہارا قصور تھوڑا ہی ہے !۔اس کے بعد جب " احرار کے ساتھ مزید چلنا نا ممکن ہو گیا اور مجلس عمل سے علیحدگی نگز یہ ہو گئی تو سبھی اس امتیاط کے ساتھ علیحدگی کا اعلان کیا گیا کہ عوام اسی مھترے میں یہ ہیں کہ ہم نے اپنے حصے کا کام اپنے ذقے لے لیا ہے؟ آخر عوام کی ناراضی مول لینا کوئی آسان کام نہ تھا۔پھر جب معاملہ تحقیقاتی عدالت میں آیا تو اس وقت مولانا مودودی صاحب نے حالات کو بگاڑنے کی ذمہ داری میں حکومت اور قادیانیوں کے ساتھ ساتھ احرار کو بھی شریک کیا ! یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ تینوں برابر کے ذمہ دار تھے تو آج سے قبل آپ ساری ذمہ داری حکومت اور قادیانیوں پر کیوں ڈالتے رہے ؟ کچھ تو آپ نے احرار کے بارے میں بھی فرمایا ہوتا ! اور جماعت اسلامی کو من حیث الجماعت تو اس " قول ثقیل " کے کہ گزر زنے کی پھر بھی ہمت نہ ہوئی۔جماعت نے اپنے بیان میں ساری ذمہ داری صرف حکومت اور قادیا نون ہی پر ڈالی۔تحقیقاتی عدالت میں مولانا اور جماعت نے اپنے آپ کو ان سارے معاملات میں بالکل بری الذمہ مظہرانے کی کوشش کی اور اس کے لیے سارا زور اس استدلال پر صرف کیا کہ ہم نے مجلس عمل سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔لیکن میں اس معاملے میں تحقیقاتی عدالت کے اس فیصلے کو بالکل صحیح سمجھتا ہوں کہ۔۔۔۔۔۔۔جماعت اسلامی ذمہ داری ہیں احرار کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد جب تک مقدمات چلتے رہے اور عوام کے جذبات میں اس مسئلہ