تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 526 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 526

۵۲۴ اس داستان کا المناک ترین باب مسئلہ قادیانیت میں جماعت اسلامی کا طرز عمل ہے۔اس کے دوران جماعت اور اس کے قائدین نے میں طرح اپنے اصولوں کی بجائے عوام کے چشم دا برد کے اشاروں پر حرکت کی ہے اسے دیکھ کہ انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اتنی قلیل مدت میں ایک جماعت کا مزاج اس درجہ بھی بدل سکتا ہے ؟۔۔۔۔۔۔یہ مسئلہ کوئی آج کی پیدا وار نہیں تھا۔۔لیکن۔۔۔۔۔اپنے تاسیس کے دن سے لے۔۔۔۔کر تک پورے گیارہ بارہ سال جماعت اسلامی نے بحیثیت جماعت یا اس کے اکابرین نے بحیثیت افراد اس پر کوئی علمی اقدام کرنا تو کجا زبان سے ایک حرف تک نہ نکالا بلکہ ایک اصولی اسلامی جماعت کی حیثیت سے اپنے دور اول میں اس نے ایسی باتیں کیں کہ جن سے قادیانیوں کی تکفیر کی براہ راست نہ سہی بالواسطہ صفر در سمت شکنی ہوتی ہے ؟ ملاحظہ ہو تکفیر بغیر اتمام حجت سے متعلق جماعت کا نقطۂ نظر ص ۵۲) لیکن جب سنہ میں زعمائے احرار نے اسے واقعی ایک مسئلہ بنالیا اور عوام کے جذبات کو مشتعل کر لیا نواب جب کہ اصول پرستی اور مردانگی کا تقاضا یہ تھا کہ۔۔۔۔۔لوگوں کو بتایا جاتا کہ تم خواہ مخواہ مشتعل کیے جارہے ہو۔نہ یہ مسئلہ اتنی اہمیت رکھتا ہے اور نہ اس کے حل کی صورت وہ ہے کہ جو اختیار کی جارہی ہے۔اور اگر عوام اسے رو کر تے تو کم از کم انی بری" کہ کر الگ ہو جاتا۔جماعت اسلامی نے اپنی اصول پسندی اور اصول پرستی کو ذبح کر کے حق گوئی سے جی کراتے اور روباہی کا ثبوت دیتے ہوئے جو طرز عمل اختیار کیا وہ بے اصولے پن اور عوام خوفی کی عملی تصویر ہے چنانچہ قا دیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ ہشت نکاتی مطالبے میں نویں سکتے کی حیثیت سے کر لیا گیا اور مجلس عمل کے ساتھ تعاون شروع کر دیا گیا اور ان لوگوں کی قیادت قبول کر لی گئی کہ جن کے پاس بیٹھتے ہوئے بھی بقول یکے از بزرگان جماعت جماعت کے زعماء کو گھن آتی تھی اور مین کے 66 حقیقی ارادوں اور عزائم پر سے بعد میں مولانا مودودی نے " بیان حقیقت میں پر دے اٹھا !۔۔۔۔۔صرف یہی نہیں کہ عوام کے " تقومی " کی وجہ سے جماعت نے اس معاملہ میں حصہ لینا شروع کر دیا بلکہ ان کی بارگاہ میں " احسان کا درجہ حاصل کرنے کی سعی شروع ہو گئی اور قادیانی