تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 514
۵۱۲ پیٹ پرستی کا کار دوبارہ بناکر ختم نبوت کے روپیہ سے کاروبار کبھی نہیں چلا یا البند سنی علماء کی مخلصانہ تبلیغی سرگرمیاں محتاج تعارف نہیں۔۔دور نہ جائیے تحریک ختم نبوت ۹۵۳ میں ہی عطاء اللہ شاہ بخاری و محمد علی جالندھری اہلسنت کے مقتدر علماء حضرت مجاہد اعظم مولنا ابو الحسنات رحمۃ اللہ علیہ خطیب مسجد وزیر خان لاہور صدر مجلس عمل اور شیر بیشه خطابت حضرت ہمیشہ مولانا صاحبزادہ فیض الحسن شاہ منظلہ کی جوتیاں چاٹا کرتے تھے اور انہیں کے نام پر دیو بندی دو لاکھ روپیہ لوگوں سے بٹور کر ثواب دارین سے مشرف ہوئے تھے۔۔۔مجلس تحفظ ختم نبوت کی اسلامی خدا دیوبندیوں کے ہر کام میں زراندوزی کا ہی مقصد در پیش ہوتا ہے چنانچہ ختم نبوت کا صدر۔مشہور قصہ خوانی مولوی محمد علی جالندھری میں نے دو تین کا روباری حصہ دار مبلغ بھی اپنے ساتھ نتھی کر رکھے ہیں لاکھوں روپیہ نبی کے ناموس کے نام پر جمع کر کے زمین کے مریعے اور آڑ بہت کی دکانوں سے مشرف ہو کر نعیم دارین واجر جمیل سے ثواب تعلیم حاصل فرما چکے ہیں چنانچہ دیوبندی فرقہ کے مرشد اعظم جناب منشی عبد الکریم شورش کشمیری اپنے رسالہ چٹان میں اپنے ہی مرید د مخلص مولوی محمد علی جالندھری کے متعلق لکھنا ہے د و در مولوی محمد علی جالندھری) ہمارے لیے اب بھی اسی طرح محترم ہے جس طرح پہلے تھے۔لیکن ایک چیز ہے مولان محمد علی کی ذات دوسری چیز ہے مجلس تحفظ ختم نبوت تیسری چیز ہے اس مجلس کے نام پر جمع کردہ روپیہ الخ راس کے چند مسطور بعد پر شورش صاحب لکھتے ہیں) مولنا محمد علی جالندھری بہر حال اس مجلس اور اس روپیہ کے امین بنے ہوئے ہیں اب اگر وہ اس مجلس کو اپنی ذات تک محدود کر لیں اور جس مقصد کے لیے یہ روپیہ جمع ہوا ہے یا ہو رہا ہے اس مقصد پر صرف نہ ہو بلکہ اس کے بر عکس ان کے مشاہرہ میں صرف ہو یا اس سے اراضی خرید لی جائے یا اس سے آٹہ بہت کی جائے اور جس عظیم مقصد کا روپیہ ہے وہ عظیم مقصد روز بروز مجروح ہو رہے تو ہمارے کرم فرما ہی ہمیں بتائیں کہ اصلاح احوال