تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 490 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 490

۴۸۸ کو ملا کر ان کا نام اسلام رکھ دیا گیا ہے ؟ به سوال ان سب لوگوں کے لیے اہم ہے۔جو اپنے آپ کو سچے دل سے مسلمان بھی کہتے ہیں۔اور اسلام سے محبت بھی رکھتے ہیں۔کیونکہ ہمارے ملک میں یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا کہ مسلمان کن عقائد کے رکھنے والوں کو کہتے ہیں۔چنانچہ ہمارے دستور میں مسلمان کی تعریف (Deination) شامل نہیں ہو سکی۔اس لیے شق نمبر ۲۶۰ کے جزہ نمبر ۳ میں غیر مسلم کی تعریف شامل کی گئی ہے۔اس سلسلہ میں سب سے پہلے یہ سوال کہ مسلمان کس کو کہتے ہیں؟ کھل کر ۱۹۵۳ء میں اُس وقت سامنے آیا۔جب قادیانیوں کے خلاف پنجاب میں فسادات مجھےئے اور ایک تحقیقی عدالت مقرر کی گئی کہ ان فسادات کے اسباب کی تفتیش کرے۔اس عدالت کے صدر جناب محمد منیر تھے جو اس وقت چیف بس مشس تھے اور ایک رکن کیانی صاحب مرحوم تھے۔ہجو اس وقت پنجاب ہائی کورٹ کے جج تھے۔اس عدالت نے ملک کے تقریبا تمام فرقوں کے سرکردہ علماء کو بطور گواہ کے بلایا ، جو فرقے اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے۔چنانچہ وہ سب پیش ہوئے اور سب سے یہ سوال کیا گیا کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے ؟ ہر ایک کا جواب منیر رپورٹ میں درج ہے۔- ان جواہرات کو غور سے دیکھا جائے۔تو معلوم ہو گا کہ ان میں سے کوئی سبھی یہ کہ کر مطمئن نہیں ہوا کہ اللہ کو ایک مانتا اور محمد کو اس کا سچا پیغمبر مانا ایک مسلمان کا عقیدہ ہے بلکہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ اور شرائط شامل کی گئیں وجہ یہ تھی کہ اگر وہ مشرائط نہ لگاتے تو مچھر دونوں میں جو اختلاف ہے اس کی بنیاد قائم نہ ہو سکتی۔ہر فرقے کے عالم نے ان عقائد کا ذکر کسی نہ کسی طرح سے مسلمان کی تعریف میں کرنا ضروری سمجھا۔جن کو وہ اپنے فرقے کی خصوصیت سمجھتے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان کی تعریف میں فرقوں کی تعریفیں شامل ہوتی رہیں۔دوسرے الفاظ میں اسلام فرقوں کا ایک مجموعہ نظر آنے لگا اور خالص اسلام کی تعریفت مسلمان کی تعریف کے ساتھ الجھد کہ رہ گئی ہے ر در نامه جنگ کراچی ۱۶ رمئی ۱۶ بحوالہ ہفت روزہ لاہور ر جلد نمبر ۲۵ شماره نمبر ۲۲ ۳۱ ر مئی ته لاله و صفحه نمبر ۱۵