تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 489 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 489

ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں تو اس کے لیے انکار و تکذیب ہی کا حربہ استعمال کرتے ہیں۔مگر جب تک قائل خود انکار نہ کر دے اور اپنی طرف سے تکذیب کا یقین نہ دلائے۔اسے مکذب و یکفر قرار نہیں دیا جا سکتا۔امام صاحب فرماتے ہیں :- ہر فرقہ دوسرے فرقے کی تکفیر کرتا ہے۔اور اس پر رسول کی تکذیب کی تہمت دھرتا ہے۔منبلی اشعری کو کافر لکھتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ اس نے خدا کے لیے اوپر کی جہت اور عرش پر بیٹھنے کی تکذیب کی ہے اور اشعری منبلی کو اس لیے کافر کہتا ہے کہ وہ خدا کی تشبیہ کا قائل ہے۔حالانکہ رسول نے تو لَيْسَ كَمِثْلِهِ کہا ہے۔اس لیے وہ رسول کی تکذیب کرتا ہے اور اشعری معتزلی کو اس بنا پر کافر بتاتا ہے کہ اس نے خدا کے دیدار ہونے اور خدا میں علم و قدرت اور دیگر صفات کے قائم بالذات ہونے سے انکار کرنے میں رسول کی تکذیب کی ہے اور معتزلی اس خیال سے اشعری کو کافر بتاتا ہے که صفات کو عین ذات نه ماننا تكثير في الذات ہے۔اور توحید باری کی تکذیب رسول اللہ کی تکذیب ہے : التفرقة بين الاسلام والزندقہ ص ۲۳) به سطور اہل پاکستان کے ان علماء کے لیے لکھی گئی ہیں جو حکومت سے لفظ مسلم کی تعریف کرانا چاہتے ہیں۔اگر چہ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ وہ تعریف سے پہلے بعض فرقوں کو خارج از اسلام قرار دینے کے لیے بے چین ہیں اور تعریف بھی ایسی من مانی کرانا چاہتے ہیں کہ جن کو وہ مسلمان کہنا نہیں چاہتے وہ مسلمان ثابت نہ ہوں۔اس الجھن کو دور کرنے کے لیے یہ سطور پیش کی جارہی ہیں۔ناظرین یقین فرمالیں کہ مضمون نگار صاحب نہ "قادیانی ہیں نہ " رافضی" نه " وہابی نہ در بدعتی نه " پر دیزی نہ چکڑالوی" نه " خارجی» نه «مودودی - بلکہ ٹھیٹھ اہل سنت ہیں۔- جمعية العلماء سے تعلق رکھنے والے ہیں۔" - چیف جسٹس قدیر الدین صاحب نے لکھا :- اسلام کسی ایک دین کا نام ہے یا طرح طرح کے بہت سے دین اور بہت سی شریعتوں