تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 444 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 444

جماعت اسلامی کے سابق لیڈر مولانا امین ان اصلاحی کابین انہوں نے مسلمانوں کو دو زمروں میں تقسیم کیا۔سیاسی مسلمان اور تحقیقی مسلمان۔اس کے بعد انہوں نے ان دس عناصر کی تفصیل بیان کی جو کسی کو سیاسی مسلمان بنانے کے لیے ضروری ہیں۔اور کہا کہ وہ اگر ان تمام شرائط کو اچھا کرے تو وہ اسلامی ریاست کے تمام شہری حقوق کا مستحق ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اس کا عقیدہ خدا کی وحدانیت پر ہو۔رسول اللہ کو خاتم النبیین مانتا ہو اور وہ زندگی کے تمام مسائل کے متعلق اُن کے حکم کو آخری سمجھتا ہو۔یہ اصول ما نتا ہو کہ ہر خیر اور ہر شہر کو خدا پیدا کرتا ہے۔اس کا عقیدہ قیامت پر امن اور قرآن کو خدا کا آخری صحیفہ سمجھتا ہو۔انہوں نے کہا کہ سیاسی مسلمان کو ہر سال حج کرنا چاہیئے۔زکوۃ ادا کرنی چاہیئے۔مسلمانوں کی طرح نماز پڑھنی چاہیے۔اسلامی معاشرہ کے تمام قواعد ظاہرہ پر عمل کرنا اور روزہ رکھنا چاہیئے۔گواہ نے کہا کہ مذکورہ بالا شرائط میں سے کوئی ایک بھی شرط پوری نہ کی جائے تو متعلقہ شخص سیاسی مسلمان نہیں رہ جاتا۔بعد میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی شخص ان دس اصولوں پر عقیدہ رکھتا ہوں تو یہ اس کے مسلمان ہونے کے لیے کافی ہے قطع نظر اس حقیقت کے کہ وہ ان پر عمل کرتا ہے یا نہیں لال حکومت پنجاب کی طرف کی طرف سے مسٹر فضل الہی کی جرح کے جواب میں گواہ نے کہا کہ جون اور جولائی کے مہینے میں تحریک کے سلسلے میں کچھ بد نظمیاں ہوئی تھیں۔لیکن جماعت کو اس پر بہت زیادہ تشویش ہوئی تھی۔کیونکہ یہ خیال کیا گیا تھا کہ ایک دفعہ عوام اگر دھمکی بانتشدد سے اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہو گئے تو اس ملک میں پھر کوئی چیز پر امن طریقے پر کرنی ناممکن ہو جائے گی۔یہ بھی محسوس کیا گی کہ یہاں تشدد پر اترنے کا رجحان موجود ہے۔ہم نے مجلس عمل میں اس لیے شمولیت کی بھی کیونکہ ہمارا اخبال تھا کہ چونکہ مجلس میں شورش پسند عنصر موجود ہے۔اور ہماری جماعت کے لیے یہ ضروری تھا کہ اس عنصر به روز نامه ، قلت لاہور اور نومبر ۱۹۵۳ صدا i