تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 425 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 425

۳۳ نہیں کہ خواجہ نذیر احمد اس معامہ میں مجھ سے مشورہ کرنے کیوں آئے تھے۔؟ سوال : کیا انہوں نے تجویز پیش کی تھی کہ امیر جماعت اگر عام مسلمانوں کو آئندہ کا فرنہ کہیں تو مکن ہے مزید تبادلۂ خیال کے لیے بنیا د پیدا ہو جائے۔جواب :۔مجھے یہ یاد ہے کہ انہوں نے مجھ سے یہ کہا تھا کہ وہ اور ان کے ایک رفیق پہلے ہی ربوہ جاچکے تھے اور امیر جماعت سے ملاقات کر چکے تھے اور انہوں نے اس موضوع پر ایک بیان جاری کر دیا تھا۔میرا خیال ہے کہ انہوں نے مجھ سے یہ تجویز پیش نہیں کی تھیں۔انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ امیر جماعت نے جو بیان جاری کیا تھا اس سے اس پہلو کے متعلق پوزیشن واضح ہوگئی تھی۔سوال یہ کہا گیا ہے کہ لاہور جلد اور بار بار آکر اور اپنے فرقہ کو اس کے رویہ کے متعلق مشورہ دے کہ آپ نے اس تحقیقات سے متعلق معاملات میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا ہے۔کیا یہ درست ہے؟ جواب۔ایک تحقیقات کے زیادہ تر یھتے ہیں ملک کے باہر رہا ہوں۔ملک سے باہر جانے سے قبل میر سے لاہور آنے کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ تحقیقاتی عدالت کے متعلق فرقے کو کیا رویہ اختیار کرنا اور کیا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیئے نہ اس کا مقصد اپنے فرقے کے اراکین کو - مشورہ دینا تھا۔سوال: - کیا مذہبی امور میں آپ کو عام طور پر اپنے فرقے کے امیر سے اتفاق ہے ؟ جواب :۔جی ہاں۔ان امور پر جن کا سختی کے ساتھ عقیدے سے تعلق ہے۔سوال :۔امیر جماعت کی کیا پوزیشن ہے جواب:۔عقائد کے متعلق وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ فرقے کے لیے قانون کی حیثیت رکھتا ہے۔سوال :۔کیا یہ حقیقت ہے کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی ؟ بجواب :۔میں اصل نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوا لیکن میں جنازے کے جلوس کے ساتھ تھا۔یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ نماز جنازہ مرحوم مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی تھی جن کے خیال کے مطابق میں کا فرا در مرتد تھا۔اور مجھے سزائے موت دے دینی چاہیئے تھی۔سوال :۔اس زمین کو حاصل کرنے کے لیے جس پر ربوہ واقع ہے کیا آپ کو کسی شکل میں ذریعہ بنایا