تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 419
یہ پتہ چل جائے کہ میں جماعت کے خلاف یہ مہنگامہ برپا ہوا تھا وہ کم از کم آئن اور صلح پسند ہے اور اس کے عقائد کم از کم کم از کم اتنے اشتعال انگیزی سے بھرے ہوئے نہیں ہیں جتنان کو سمجھا جارہا ہے مجھے امید ہے کہ آپ ضرور اس سلسلہ میں بہتر سے بہتر جدوجہد فرمائیں گے اور میں طرح مرا دل و دماغ صاف ہو گیا۔میں سمجھتا ہوں جو لوگ کہ فطرت صحیحہ کے مالک ہیں وہ بھی حقیقت سے آشنا ہو جائیں گے۔میں ایک غیر احمدی ہونے کی حیثیت سے آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں اور آپ کے عقیدے کے مطابق میں آپ سے دعا کے لیے جرات کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر آپ کی جماعت کا قدیم سچائی پر ہے تو وہ مجھ پر بھی آشکار کر دے۔فقط۔والسلام۔طالب دعا (سید محمد احمد جیلانی۔سابقہ انسپکٹر سنٹرل ایکسائز و لینڈ کسٹم مکان نمبرہ گلی نمبرا ہر و پارک سنت نگر۔لاہور ) کتاب در تحقیقاتی عدالت کے دس سوالوں کا جواب اور مولانا مودودی کے جوابات پر تبصرہ کے مندرجات کا اندازہ کرنے کے لیے بطور نمونہ پسند عنوانات ملاحظہ ہوں :- ظہور میں مندی کا ذکر قرآن اور حدیث میں ظہور مہدی کے متعلق احادیث ، وفات مسیح توفی کے معنے ، اجماع کی حقیقت ، مسئلہ بیرون ، قائد امت کون ہوگا ؟ د قبال کے خانہ کعبہ کے طوات سے مراد، مسیح موعود کے نبی ہونے کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبيين ما نا کیوں ضروری ہے ؟ تفسیر خَاتَمُ النَّبِيِّينَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ اور احا دیث، قرآن مجید کی اردو سے ڈائر یکٹ ایکشن نا جائز ہے ، احادیث کی روتے بھی ڈائریکٹ، ایکیشن جائزہ نہیں ؛ ان سطور سے واضح ہے کہ تحقیقاتی عدالت کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں کتنا شاندار اضافہ ہوا۔حق یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد اگرچہ سلسلہ احمدیہ کی طرف سے متعدد کتابیں اور رسائل منادات پنجاب کے زمانہ تک اشاعت پذیر ہو چکے تھے مگر تحقیقاتی عدالت کی کارروائی کے نتیجہ میں چند ماہ کے اندر اندر جس قدر غیر معمولی محنت اور تحقیق و تخص کے ساتھ بنیادی اور اہم مضامین پرمشتمل مبسوط لتر بر مرتب اور شائع کیا گیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔