تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 418 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 418

کو اس کا علم ہے جو کچھ بھی ہوا اس کے متعلق ذکر کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کے ہوتے ہیں خدا تعالیٰ کا کچھ مان ہے اور اس راز کا افشار ہونا بھی ضروری تھا جو اس رنگ میں ہوا۔اس کے بعد میں نے یہ محسوس کیا کہ ہر طبقہ کے ذی علم اور فرمی عقل مع علمائے کرام دنیا کے سامنے اپنی اپنی قابلیت کے ساتھ نمایاں ہونے لگے اور بعض تو اس منہ تک نمایاں ہوئے کہ ان کا اندرونی بھانڈا پھوٹ گیا۔میں تحقیقاتی کمیشن کی تمام سہ پورٹوں کا بغور مطالعہ کر رہا ہوں اور اس کے ایک ایک لفظ کو دن پڑھتا ہوں ایک خاص قسم کی ویسی سی پیدا ہو گئی ہے۔روزانہ کچھ نہ کچھ پڑھ کر دوسرے دن کے لیے مچھر بے تاب ہو جاتا ہوں اس دوران میں مجھ پر ہر ایک کی پوزیشن اپنی عقل کے بموجب واضح ہو گئی اور میں نے تعصب کو بالائے طاق رکھ کر یہ ضرور سمجھ لیا ہے کہ حق پر کون ہے۔یہ میرے لیے ایک عجوبہ بات ہوئی ہے اگر تحقیقاتی کمیشن نہ ہوتا تو شاید میری معلومات میں اتنا اضافہ نہ ہوتا اور نہ ہی میں بہت سی باتوں کو سمجھ سکتا تھا۔میں نے مولانا مووروی صاحب کا بیان اخباروں میں پڑھا جو کہ انہوں نے عدالت میں داخل کیا ہے اور اس کے پڑھنے کے بعد میں نے خصوص کیا کہ میں اس سے متائثر ہوا ہوں لیکن کچھ دن کے وقفہ کے بعد اخبار ملت میں میری نظر سے وہ تبصرہ بھی گزرا جو کہ احمدیہ جماعت کی طرف سے عدالت میں داخل ہوا ہے۔ابھی اس سلسلہ کی قسطیں باقی ہیں۔مجھے یہ محسوس ہونے لگا کہ مولانا مودودی صاحب نے جو کچھ بیان فرمایا ہے وہ اس کے سامنے ماند ہے اور اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتا ہے میں نے جو تبصرہ پڑھا ہے اس میں دلائل اور براہین سے باتیں کی گئی ہیں نہ کہ یوں ہی۔اس تبصرے کے پڑھنے کے بعد میرے مطالعہ میں بے انتہاء اضافہ ہوا۔بہت سے شکوک رفع ہوئے اور اب میں کم از کم اس مقام پر نہ رہا۔جس پر میں تحقیقات سے پہلے تھا۔اس کے علاوہ میں نے آپ کے عقیدہ کے متعلق سوالات کے جوابات بھی غور سے پڑھتے ہیں جن سے مرے بہت سے شکوک رفع ہوئے ہیں۔میں یہ سمجھتا ہوں اور انصاف کا بھی یہ ہی تقاضا ہے کہ میں طرح سے اسلامی جماعت کے لوگ مولانا مودودی صاحب کے بیان کو پمفلٹ کی شکل میں تقسیم کر رہے ہیں اس طرح مری خواہش بھی یہ ہے کہ آپ کی جماعت کی طرف سے اس تبصرے کو پمفلٹ کی شکل میں تقسیم کیا جا رے۔میرا اس لکھنے کا منشاء صرف اور صرف یہ ہے کہ لوگ راستی اور امن کی طرف آجائیں اور ان کو کم از کم