تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 407 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 407

بات یا جماعت احمدیہ کے شائع کردہ لٹریچر کو عدالت ایک مستقل شہادت کی صورت میں تسلیم کریگی اس وقت تک جو بھی سوالات کئے گئے ہیں وہ تقریبا سب کے سب ایسی ہی تحریروں سے متعلق ہیں۔یہ محض تضیع اوقات ہے۔اور ہم اس بارہ میں مزید سوالات کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔تلت کی مسٹر نذیر احمد خال صاحب ایڈووکیٹ کے مزدی والا عدا المجازر سے سوال :۔سول پلڑی گزٹ کے ۲۳ فروری ۱۹۵۳ء کے پرچہ میں آپ کا ایک بیان شائع ہوا تھا کیا خواجہ نذیر احمد ایڈووکیٹ اس بیان کے شائع ہونے سے قبل یا بعد آپ سے ملے تھے ؟ جواب : - ھاں۔وہ اس بیان کی اشاعت سے ایک یا دو دن قبل مجھ سے ملے تھے۔سوال : - کیا خواجہ نذیر احمد نے دوبارہ کسی وقت مارچ کے مہینہ میں آپ سے ملاقات کی ؟ جواب :۔ہاں۔وہ دوبارہ بھی مجھ سے ملے تھے۔لیکن مجھے تاریخ یاد نہیں۔وہ پہلی طاقات کے ایک یا دو ماہ بعد ملے ہوں گے۔سوال :۔کیا انہوں نے آپ کو خواجہ ناظم الدین کا کوئی پیغام دیا تھا ؟ جواب :۔نہیں۔انہوں نے خواجہ ناظم الدین کا کوئی ذکر نہیں کیا۔انہوں نے صرف یہ کہا تھا۔کہ کراچی میں ان کی گفتگو بعض اہم شخصیتوں سے ہوئی ہے۔میرا اپنا خیال یہ تھا کہ وہ گور زجنرل سے لے تھے۔سوال: - کیا انہوں نے مولانا مودودی کا نام لیا تھا ؟ جواب :۔نہیں۔