تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 31 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 31

کے نام سے مشہور تھی بلوائیوں کے ہاتھوں تباہ و برباد ہو گئی۔چنانچہ چوہڑی حد بشیر صاحب کا بیان ہے کہ :۔درات کے ساڑھے گیارہ بجے بازار کے چیڑ اسی (جو کیدل) نے اطلاع دی کہ میری درکان تالہ توڑ کر یوئی جاچکی ہے۔اس وقت ہر طرف ہنگامہ آرائی تھی۔پولیس با سر مچھر رہی تھی لیکن کسی کو منع نہیں کرتی تھی دوسرے دن صبح دس بجے کے قریب میں دوکان پر آیا تو سب چیزیں بکھری ہوئی تھیں۔باہر چلی ہوئی اشیاء کی راکھ سڑک پر بکھری ہوئی ادویات جلا ہوا دوسرا سامان پڑا ہوا تھا۔اس وقت پولیس کا پہرا بیٹھا ہوا تھا۔دوکان کے اندر ٹوٹے ہوئے شیشے ، گیری ہوئی ادویات اور الماریاں ٹوٹی ہوئی حالت میں تھیں۔Refrijrater خراب پڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔نقصان کا اندازہ ۳۲۰۰ کے قریب ہے میں کی تفصیل جماعت کو دے دی گئی تھی اور اس کی کاپیاں حکام بالا کو بھی بھیج دی تھیں - نیشنل میڈیکل ہال اور سیر بازار میں انگریزی ادویات کی ایک اور دکان نیشنل میڈیکل بالی تھی جس کے مالک ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب دلسپر حضرت مولوی قطب الدین صاحب تھے۔یہ دکان کس طرح حملہ آوروں کے ہاتھوں غارت ہوئی اس کی تفصیل ڈاکٹر صاحب موصوف کے الفاظ میں درج ذیل ہے میری دوکان واقعہ نوہٹر بازار کو برونہ اتوالہ دن کے قریباً بارہ بجے سے لے کری۳ بجے تک تمام سامان۔ادویہ کی الماریاں ، فرینچر ، میزیں کرسیاں اور دکان کی ہر ایک چیز دکان سے باہر نکال کر آگ لگا دی اور محلہ کے اکثر لوگوں نے اس واقعہ کو دیکھا۔میں خود دکان پر نہ تھا ، کیونکہ حفاظت کا کوئی سامان نہ تھا۔۔۔۔میری دکان مکمل طور پر خالی کر دی گئی ہے۔ایک پیسہ کی چیز دکان میں نہیں رہی۔سجلی کمپنی کا میٹر جو دکان میں تھا اور متعلقہ بجلی کی وائرنگ تمام کی تمام توڑ پھوڑ کر پھینک دیا گیا۔دکان بالکل خالی ہے۔نقصان کا اندازہ بارہ ہزار روپیہ ہے۔برلاس سائیکل ورکس | ایک اور احمدی دوست سردار عمر صاحب کی سائیکلوں کی دکان ایمانیوں نے ملہ کر کے اُسے لوٹ لیا اور ان کو قریباً نه وفات ۱۸ مئی ۶۱۹۸۵