تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 30
حملہ آور ہوا۔اس نے مکان کے دو در راندوں کو توڑ دیا۔بیٹھک کا سامان میز کرسیاں پار چات اور قرآن شریف کے تین نسخے اور دیگر کتابیں جماعت احمدیہ کے مختلف شعبوں کے قائل وغیرہ بازار میں پھینک کر آگ لگادی۔اس طرح قریباً پانچ سو روپیہ کا نقصان پہنچایا۔بلوائیوں نے بیٹھک سے آگے اندر دن خانہ میں جانے کی بھی از حد کوشش کی مگر خدا تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ حملہ آور اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔فسادیوں نے اسی روز نور آرٹ پر لیس پر بھی حملہ کیا اور اس کو آگ نور آرٹ پر میں جا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔اس وحشیانہ بلغارسے اس پریس کے احمدی مالک (مولوی علی محمد صاحب اجمیری) کو بارہ ہزار روپیہ کا نقصان ہوا۔پاک ریسٹورنٹ اسی روز ایک اور احمدی دوست عزیز احمد صاحب سیالکوٹی کے پاک ریسٹورنٹ واقع ڈنک بازار پر کبھی دھاوا بولا گیا۔اور اُسے بے دردی سے لوٹا گیا اور باقی ماندہ سامان کو توڑ پھوڑ کر بیکار بنا دیا گیا اس حادثہ کے بعد عزیز احمد صاحب نے ڈپٹی کمشنر صاحب راولپنڈی کی خدمت میں اس مضمون کی عرضداشت پیش کی کہ : میرا ریسٹورنٹ یعنی پاک ریسٹورنٹ واقع ٹرنک بازار را ولپنڈی جو یہاں کے تمام ہوٹلوں سے امتیازی حیثیت رکھتا تھا اور میں سے دو بڑے مہاجر کنبوں کی شکم بڑی ہور ہی متقی اور جس کی آمدنی سے گورنمنٹ پاکستان کے خزانہ میں ۲۹۶ روپیہ انکم ٹیکس اور مبلغ ۳۰۰ روپے سالانہ سیلز ٹیکس جاتا تھا مورخہ مارین کو بوقت شام مجلس احرار کے کارکنوں کے ہاتھوں تباہ و برباد ہو گیا ہے۔ہوٹل کا تمام سامان مع سوڈا واٹر فیکٹری کے لوٹ لیا گیا ہے اور ہوٹل کے کمروں کو توڑ پھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ ایک عالی شان ریسٹورنٹ جو شہر میں اپنی مثال آپ تھا کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔الخ " راولپنڈی کے بوسٹر بازار میں ایک احمدی چو ہدری محمد بشیر صاحب شانی کیمسٹ شاپ ایک انگریزی ادویات کی بہت بڑی در کانجو، شانی نیست شاپ