تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 393
جواب :۔اصل میں تو یہ مذہبی جماعت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا دماغ عطا کیا ہے کہ حبب بھی کوئی سیاسی مسئلہ اس کے سامنے پیش ہوتا ہے تو وہ بیکار نہیں رہ سکتا۔سوال :۔کیا آپ نے کوٹہ میں اپنے خطبہ جمعہ میں وہ تقریر راگنز بٹ ڈی - امی ۳۲۲) کی تھی۔جود الفضل کے ۱۳ اگست ۹۷ہ کے پرچہ میں شائع ہوتی ہے ؟ جواب: - جی ہاں۔سوال :۔آپ نے جب اپنی تقریر میں ذیل کے الفاظ کہے تو اس سے آپ کی کیا مراد تھی ؟ یا در کو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک ہماری Base مضبوط نہ ہو۔پہلے Base مضبوط مو تو تبلیغ ہوسکتی ہے جواب :۔یہ الفاظ اپنی تشریح آپ کرتے ہیں۔سوال :۔اور آپ نے جب یہ کہا تھا کہ بلوچستان کو احمدی بنایا جائے تاکہ ہم کم از کم ایک صوبہ کو تو اپنا کہ میں تو اس سے آپ کا کیا مطلب تھا جواب:۔میرے ایسا کہنے کے دو سبب تھے (1) موجودہ نواب قلات کے دادا احمدی تھے اور (۲) بلوچستان ایک چھوٹا سا صوبہ ہے سوال: - کیا آپ نے اپنے خطبہ جمعہ میں مندرجہ ذیل الفاظ کہے تھے جو الفضل ۱۲۲ اکتو بر شد روستا دینہ ڈی - ای -۲۱) میں شائع ہوئے ہیں ؟ میں یہ جانتا ہوں کہ اب یہ صوبہ ہمارے ہاتھوں سے بھل نہیں سکتا۔یہ ہمارا ہی شکار ہو گا۔دنیا کی سارہ ہی قومیں مل کر بھی ہم سے یہ علاقہ چھین نہیں سکتیں : جواب:۔جی ہاں۔لیکن اس عبارت کو اس کے لفظی معنوں میں نہیں لینا چاہیئے۔یہاںی مستقبل کا ذکر ہے۔میں صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ چونکہ اس صوبہ میں ایک احمدی فوجی افسر قتل ہوا ہے اس لئے یہ صوبہ لانہ گا احمدی ہو کہ رہے گا۔سوال : کیا ر یوہ ایک خالص احمدی نو آبادی ہے ؟ جواب : - یہ زمین صدر انجمن احمدیہ نے خریدی تھی اور اُسی کی ملکیت ہے۔انجمن کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کے متعلق جو چاہے انتظام کرے۔لیکن بعض غیر احمدیوں نے بھی زمین خریدنے کے لیے