تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 390
۳۸۹ جاتی ہیں۔اور تم تسلیم کرلیتے ہیں کہ شاہد وہ ہمیں پھانسی پر چڑھا دیں گے۔لیکن میں مہندوؤں سے پوچھت ہوں کہ تم لوگوں نے ہمیں کب سکھ دیا تھا۔تم لوگوں نے بہین کب آرام پہنچایا تھا۔اور تم لوگوں نے کب ہمارہ سے ساتھ ہمدردی کی تھی یا ؟ سوال : کیا آپ نے جو کچھ ارمئی ۱۹۴۷ 2 کے الفضل میں شائع ہوا اس کی تردید کی ؟ جواب :۔جو کچھ اس میں بیان ہوا تھا۔اور مٹی سٹ ۱۲ ء کے الفضل میں عملاً اس کی تمدید کردی گئی تھی۔سوال: - الفضل بریر شائع شدہ الفاظ ۱۴ ہجرت کا کیا مطلب ہے ؟ جواب :۔اس سے ۴ ارمٹی مراد ہے۔: عدالت کا سوال: - آپ اس مہینے کو ہجرت کیوں کہتے ہیں ؟ جواب :۔کیونکہ تاریخ بہلاتی ہے کہ رسول کریم کی ہجرت ما و مٹی میں ہوئی تھی۔وکیل کے سوال :۔کیا آپ سن ہجری استعمال کرتے ہیں یا کہ عیسوی کیلنڈر ؟ جواب :۔ہم نے صرف یہ کیا ہے کہ شمسی مہینوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے مختلف واقعات کے اعتبار سے مختلف نام دیدئے ہیں۔سوال: - کیا آپ نے جیسا کہ ۱۲ نومبر 2 کے الفضل میں درج ہے اپنے آپ کو اقلیت قرار دیا جانے کا مطالبہ کیا تھا ؟ جواب:۔نہیں اصل واقعات یہ ہیں کہ جب ۱۹۲۶ء میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہوئے تو حکومت نے مختلف فرقہ وارانہ پارٹیوں سے استفسارات کیے۔اور تمام مسلمانوں کو ایک جماعت قرار دیا۔اس پر بھی مسلم لیگیوں کی طرف سے ہمیں کہا گیا کہ یہ انگریز کی ایک چال ہے جس نے اس طرح غیر مسلم جماعتوں کی تعداد بڑھا دی ہے۔اور مسلمانوں کو صرف ایک پارٹی ہی تصور کیا ہے اس پر ہم نے گورنمنٹ سے احتجاج کیا کہ کیوں احمدیوں سے بھی ایک پارٹی کی حیثیت میں استضار نہیں کیا گیا۔حکومت نے جواب دیا کہ ہم ایک سیاسی پارٹی نہیں بلکہ ایک مذہبی جماعت ہیں۔سوال: کیا مارچ فاصلہ کے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر ایک اجلاس میں آپ نے وہ بیان دیا تھا جس کا ذکر رسالہ عرفان الہی کے صفحہ ۹۳ پتہ انتقام لینے کا زمانہ کے زیر عنوان کیا گیا ہے اور