تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 389 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 389

٣٨٨ سوال یہ تھا کہ کیا پاکستان عمل ممکن ہے ؟ جس کا جواب یہ دیا گیا تھا کہ سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے اس سوال کو دیکھا جائے تو پاکستان ممکن ہے لیکن میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ملک کے حصے بخرے کرنے کی ضرورت نہیں۔جواب :۔یہ صحیح ہے کہ ایک اخباری نمائندے نے مجھ سے ایک سوال کیا تھا مذکورہ بالا الفاظ اس کا ایک اقتباس ہے جو کچھ اس میں کہا گیا د تقسیم کے سوال پر میری ذاتی رائے تھی۔سوال :۔کیا آپ نے ہم ارمئی ۱۹۴۷ء کو نماز مغرب کے بعد اپنی مجلس علم و عرفان میں مندرجہ ذیل الفاظ کہے جو ار سی 19 ء کے الفضل میں شائع ہوئے ؟ میں قبل انہیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالے کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے لیکن اگر قوموں کی غیر معمولی منافرت کی وجہ سے عامر منی طور پر الگ بھی ہونا پڑے تو یہ اور بات ہے۔بسا اوقات عضو ماؤف کو ڈاکٹر کاٹ دینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں۔لیکن یہ خوشی سے نہیں ہوتا بلکہ مجبوری اور معذوری کے عالم میں اور صروف اُسی وقت جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو۔اور اگر پھر یہ معلوم ہو جائے کہ ماؤف عضو کی جگہ نیا لگ سکتا ہے۔تو کون سا جاہل انسان اس کے لیے کوشش نہیں کرے گا۔اس طرح ہندوستان کی تقسیم یہ اگر ہم رضامند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری ہے۔اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ یہ کسی نہ کسی طرح جلد نہ متحد ہو جائے کیا جواب : نہیں میں نے بالکل انہی الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار نہیں کیا تھا۔جو کچھ میں نے کہا اُسے بہت متک غلط طور پر پیش کیا گیا ہے۔جس شخص نے میری نظریہ کی رپورٹ مرتب کی۔یعنی منیر احمد۔وہ کبھی میرا ڈائری نویں نہیں رہا۔اس بارے میں میرے صحیح جبالات الفضل موڑ ضہ اور مئی ۱۹۴۷ء میں شائع ہوئے تھے جو مندرجہ ذیل ہیں:۔ان حالات کے پیش نظر ان مسلمانوں) کا حق ہے کہ مطالبہ کریں۔اور ہر دیانتدارہ کا فرض ہے کہ خواہ اس میں اس کا نقصان ہو مسلمانوں کے اس مطالبہ کی تائید کرے۔بے شک تمہیں مسلمانوں کی طرف سے بھی بعض اوقات تکالیف پہنچے