تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 362 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 362

دیا ہے۔حالانکہ جس شخص کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ احمدی ہے وہ کبھی بھی ایمبسیڈر نہیں ہوا۔وہ موجودہ فسادات سے پہلے اور موجودہ ایمبیسیڈر سے پہلے انچارج کی حیثیت میں پاکستان میں رہا ہے اور ان فسادات سے پہلے بدل کر عراق میں بطور منسٹر کے چلاگیا تھا مگر یہ بتانے کے لیے کہ گویا بیرونی دنیا میں ان مظالم پر کوئی نفرت نہیں پیدا ہوئی تھی اگر کسی نے دلچسپی بھی لی تھی تو وہ صرف ایک احمدی تھا یہ جھوٹ بولا گیا کہ انڈونیشین ایمبیسیڈر فساد کے وقت میں احمدی تھا۔فسادات کے وقت میں جو ایمبسیڈر مھارہ آج بھی ہے اور وہ نہ اس وقت احمدی تھا اور نہ اس وقت تک ہے۔شادی کا مقابلہ ہندوستان میں جب ملکا نہ میں آمریوں نے لوگوں کو شدہ کر تا شروع کیا تھا اس کا وقت احمدی ہی سنتے جو مقابلہ کرنے کے لیے آگے بڑھے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ اس معاملہ کے دوران میں ہم احمدیت کی تبلیغ نہیں کریں گے (الفضل و مارچ ۱۹۲۳ء و الفضل ۲۶ / اپریل ۱۹۲۳) چنانچہ بیس ہزار کے قریب آدمیوں کو وہ واپس لائے اور وہ آج تک بھی حنفی ہیں، احمدی نہیں اور اس وقت ملکا نہ لیڈروں نے ہمارے اس کام کا اقرار کیا اور اس کی پبلک میں گواہی دی رو یکھو الفضل ۹ ا پریل ۱۹۲۳ و الفضل ۱۶ را بپریل ۱۹۲۳ء چوہدری نذیر احمد صاحب) ۱۹۲۷ء میں جب لاہور سکھ حملہ آوروں کا مقابلہ اور کرتمان کی شرارت کا جواب میں مسجد سے نکلتے ہوئے چند مسلمانوں پر سکھوں نے بلا وجہ حملہ کر دیا تو اس وقت بھی احمدی ہی اس مقابلہ کے لیے آگے آئے۔الفضل ۱۳ رمئی ۱۹۲۷) اور در سمان" کی شرارت کا جواب بھی احمدیوں نے ہی دیا رالفضل - ارجون ) چنانچہ ان ہی کی کوششوں کے نتیجہ میں ۵۳ الصف کا قانون بنا۔ورتمان کے ایڈیٹر کو مزا لی اور یہ وہی زمانہ ہے جبکہ احرار معرض وجود میں آرہے تھے مگر ابھی انہوں نے اپنا نام احرار اختیار نہیں کیا تھا۔بہار اور ملکہ کے فسادات پھر جب بھی بیمار اور مکہ کے فسادات ہوئے تو اس وقت مسلمانوں کی تائید میں امام جماعت احمدیہ نے انگریزی میں ٹریکٹ لکھ کر انگلستان میں شائع کیا اور انگلستان کے کئی اخبارات نے ان سے متا ثر ہوکر مسلمانوں کی تائید میں نوٹ لکھے۔