تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 361
اس جنگ کے جو کہ یونان کے ساتھ ہوئی تھی۔اور بانی سلسلہ احمدیہ نے اس معاملہ میں جماعت احمدیہ کیطرف سے کی حکمت کی تائیداری کے سات مہندی کانادا کیا تھا۔آپ کے بعد دوسری جنگ لڑکی اور اٹلی کے درمیان ہوئی معبس میں جماعت احمدیہ نے لڑکی - ہمدردی ظاہر کی اور اٹلی کے خلاف جذبات کا اظہار کیا تیسری جنگ لڑ کی اور اتحادی قوموں کے ساتھ ہوئی جس میں لڑکی اپنی اعتراض کے لیے نہیں کھڑا ہوا تھا بلکہ جرمنی کی تائید کے لیے کھڑا ہوا تھا۔لازما اتحادی قوموں نے اپنی اپنی حکومتوں کی مدد کی۔وہ وقت کسی ہمدردی کے اظہار کا تھا ہی نہیں۔تمام مسلمانوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ٹمر کی کی شکست کے بعد تحریک خلافت پیدا ہوئی۔لیکن اپنے ہاتھوں سے لڑکی کی حکومت کو تباہ کرنے کے بعد خلافت کا شور مچاتا، یہ تو کوئی پسندیدہ طریق نہیں تھا مگر اسی وقت بھی موجودہ امام جماعت احمدیہ نے لڑکی کی تائید میں دو ٹریکٹ لکھے جن میں سے ایک کا نام اسٹرکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض ہے اور دوسرے کا نام " معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ ہے۔پھر جب عربوں کے ساتھ یور میں لوگوں نے معاہدہ کیا تو اس پر بھی امام جماعت عربوں کی امداد ) احمدیہ نے سختی سے اپنے خیالات کا اظہارہ کیا اور کہا کہ عربوں کے ساتھ انگریزوں نے ظلم کیا ہے اور ان کے ساتھ دھوکا کیا ہے (یہ مضامین الفضل مورخه ۹ ربون و ۱۲۰ جون ۲۵ ماه میں شائع ہو ئے ہیں) پھر انڈونیشیا کی آزادی کا سوال پیدا ہوا تو اس میں بھی احمدی جماعت نے انڈونیشیا کی آزادی | انڈونیشیا کی آزادی کی پوری طرح تائید کی اور انڈونیشیا کی زمین اُسی طرح احمدی عبتان وطن کے خون سے رنگین ہے جس طرح کہ غیر احمدی محتان وطن کے خون سے۔اور اسی کا نتیجہ تھا کہ انڈونیشین ایمبسیڈر دسفیر نے اپنی حکومت کی طرف سے گزشتہ فسادات کے موقع پر حکومت پاکستان کے فارن منسٹر کے خلاف شورش پید ا ہو نے پر انڈونیشین حکومت کی پسندیدگی کو ظاہر کیا۔یہ انڈونیشین ایمبسیڈر احمدی نہیں تھا اور اب تک وہی ایمبیسیڈر ہے۔نہیں افسوس ہے کہ مجلس عمل کے نمائندہ شمسی صاحب نے اس کو راپنی نا جائہ اعراض پوری کرنے کے لیے) احمدی قرار