تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 27 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 27

جن میں تین ضعیف العمر اور ایک سولہ سترہ سالہ لڑکا تھا جلوس کی انجمن کی طرف پیش قدمی کی اطلاع سن کر خاکسار نے انجمن احمدیہ سے باہر ایک احمدی کے مکان پر یہ اطلاع بھیجوا دی که جلوس کا رخ انجمن کی طرف ہے اور انجمن میں موجود دوستوں سے عرض کیا کہ وہ تمام دروازے کھڑکیاں انجمن کی بند کر دیں اور کوئی دوست جلوس کو دیکھنے کی بھی کوشش نہ کرے۔۔۔۔جلوس انجمن کے سامنے آکر رکا اور نعرے بلند کر تا رہا۔جلوس کے ایک ہجوم نے ہلہ بول دیا۔عین اُس وقت جبکہ عمارت کے دروازوں سے یہ سلوک جاری تھا انجمن کے ملحقہ مکانات کی طرف سے پتھراؤ شروع ہوگیا۔انجمن احمدیہ کی بیرونی عمارت کو آگ لگا دی گئی۔چنانچہ آگ میشم زدن میں لگ گئی۔آگ کے دھوئیں اور تپش کی وجہ سے نیب ہم نے دیکھا کہ حملہ آور سب کے سب عمارت سے باہر بھاگ گئے ہیں اور اب اندر رہنا خطرہ سے خالی نہیں تو احمدی احباب انجمن سے ملحقہ ایک مکان کی دیوار پر چڑھے۔۔۔۔۔ہمارے ساتھ جو بزرگ معمر احمدی دوست تھے ان کو نوجوان سہارا دے کر دوسرے مکان میں لائے دوسرے مکان والوں نے تمام دروازے بند کر رکھے تھے مگر ہمارے کہنے سننے پر انہوں نے دروازہ کھول دیا اور ہمارے ساتھی دوسری طرف نکلنے میں کامیاب ہوئے۔باہر نجوم کے کچھ نوجوان موجود تھے جنہوں نے ہمارے دو ایک آدمیوں کو پکڑا اور دھول دیے مارے یہ تمام کا سر والی قریباً نصف گھنٹہ میں ہوئی یا اس آتشزدگی سے بیت کی عمارت کا جو نقصان ہوا وہ تقریباً اٹھائیں سو روپیہ کا تھا اور اور اس کے اندر جو سامان ضائع یا لوٹا یا جلایا گیا رجیسے اختبار۔کتابیں۔دریاں۔قناتیں چار پائیاں سائبان (وغیرہ) اندازا پندرہ سو روپیہ مالیت کا ہوگا۔علاوہ ازیں اس کے ملحقہ مکان میں بعض اور احمدی بھی رہتے تھے ان کا جو سامان برباد ہوا وہ (۱۱۲۵) سو گیارہ سو روپیہ کا تھا۔اس طرح یہ سارا انقصان قریبا ساڑھے پانچ ہزار روپیہ کا ہوا اس سلسلہ میں جناب ملک برکت اللہ خاں صاحب کا حلفیہ بیان حسب ذیل ہے۔میں برکت اللہ خان ولد ملک نیانہ محمد خاں۔عارضی سکونت راولپنڈی حلفیہ طور پر بیان "