تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 358
۳۵۷ اس کے اس دنیا سے رخصت ہوتے ہی یہ اسی شخص کے کام کو تباہ کرنے کے لیے آگے نکل آئے۔جس کے بوٹ پر یہ ڈاڑھیاں رگڑا کرتے تھے۔درحقیقت یہ جو کچھ کیا گیا۔ہمارے نزدیک تو دانستہ تھا۔لیکن اگر کوئی ہمارے ساتھ اتفاق نہ کرے تو ا ہے یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ نا دانستہ طور پر بند دو کے ہاتھ کو مضبوط کرنے کے لیے کیا گیا اس کا ثبوت پیج کا حوالہ ہے۔اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ اس وقت غیر احمدی بھی احمدیت کی تائید کرنے لگے تھے اور اس کا علاج کرنے کے لیے ہندوؤں کو پکارا گیا تھا۔اس کے معابعد جماعت احمرار پیدا ہوئی اور پھر چند سال میں جماعت اسلامی تیج کے مضمون اس کے وقت اور ان دونوں جماعتوں کے ظہور کے وقت اور ان کے طریق عمل سے ظاہر ہے کہ یہ ہندووں کا خود کاشتہ پودا ہے۔نیز بیس رنگ میں یہ کوشش پاکستان بننے کے بعد کی گئی اس سے بھی ظاہر ہے کہ متعصب ہندوؤں کا ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے ایسا کیا گیا کیونکہ تمام ضاد کی بڑ یہ اصل ہے کہ ایک مینارٹی کو کیا حق ہے کہ وہ ایک مہیجار ٹی کے مقابلہ میں اپنی رائے ظاہر کرے۔ر آفاق کی مثال اور اسلام کو ایسی بھیانک صورت میں پیش کیا گیا کہ کوئی منصف مزاج آدمی اس کی معقولیت کا قائل نہیں ہو سکتا۔اور مہندوستان اور پاکستان میں ایک ایسا مواد پیدا کر دیا گیا۔کہ اگرخدا خواست پاکستان اور ہندوستان میں جنگ چھڑ جائے تو ہندوستان کا مسلمان ہمارے خلاف ہوگا۔کیونکہ ہندو پر پر ظاہر کیا گیا ہے کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق وہ اس کا وفادار نہیں ہو سکتا اور اسے اس الزام کو دور کرنے کے لیے ضرورت سے بھی زیادہ وفا داری کا اظہار کر نا پڑے گا۔ورنہ وہ تباہ ہو جائے گا۔ادھر پاکستان کا ہندو ان خیالات کے سننے کے بعد جو ایک اسلامی حکومت کے متعلق ان علماء نے ظاہر کیے ہیں۔پاکستان کی وفاداری کے جذبات اپنے اندر پیدا نہیں کر سکے گا۔در حقیقت پاکستان کو مضبوط کرنے والی اور پاکستان کے مندر کو سچا پاکستانی بنانے والی اور مہندوستان کے مسلمان کو خونریزی سے بچانے والی اور بزدل بنانے سے محفوظ رکھنے والی پالیسی رہی ہے جو کہ 41474 ا تیج ۲۵ جولان مفصل حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو تاثرات قادیان ص ۲۲۱ سے ۲۲۳ ان ملک فضل حسین صاحب مرحوم کہ یہاں حاشیہ پر حضور نے لکھی جماعت اسلامی اور احرار وغیرہ کا طرز عمل "