تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 347
۳۴۶ اگر گورنمنٹ کا کوئی براہ راست وخل ان فسادات میں تھا تو گورنمنٹ پہلے گروہ میں آجاتی ہے۔اگر کسی دقت بھی یہ ظاہر ہو جاتا۔کہ وہ ان فسادات کو انگیخت کر رہی ہے تو جس غرض سے وہ ان مساوات میں حصہ لے سکتی تھی۔وہ اس غرض سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہوجاتی تھی۔اس لیے لانہ ما اگر حکومت بحیثیت حکومت یا اسکے کچھ افسران فسادات میں حصہ لینا چاہتے تھے تو وہ یقیناً اسے مخفی رکھتے تھے اور جو بات مخفی رکھی جاتی ہے اس کا پتہ لگا آسان نہیں ہوتا مضادات کے دنوں میں ہماری جماعت کو مختلف رپور میں منی میں بھی ایک افسر کے متعلق کبھی دوسرے افسر کے متعلق کبھی صوبجاتی حکومت کے متعلق کبھی مرکزی حکومت کے متعلق کبھی ہمیں یہ خیال پیدا ہوتا تھا۔کہ فلاں افسر یا صوبجاتی حکومت اس کی ذمہ دار ہے کبھی ایک دوسری رپورٹ کی بناء پر ہم یہ سمجھتے تھے۔کہ کوئی دوسرا افسر اور مرکزی حکومت اس کی زائرار ہے (چونکہ ہمارے آدمی حکومت کے زمہ دار عہدوں پر فائز نہیں تھے۔اس لیے ہمیں حقیقت حال کا صحیح اندازہ نہیں ہو سکتا تھا۔اس لیے ہماری جماعت کا طریقہ یہی تھا۔کہ ہر قسم کے افسروں سے تعاون کرنا اور بعض دفعہ یہ خیال کرتے ہوئے بھی کہ وہ ان فسادات میں حصہ لیتے ہیں ان کے پاس اپنی شکایت نے جانا۔اور اگر کسی کے منہ سے کوئی بات، رانصاف کی نکل جائے تو اس کی تعریف کر دینا۔تاکہ شائد اسی تعریت کے ذریعہ سے آئندہ اس کے شر سے نجات مل جائے ہماری مثال تو اس جانور کی سی تھی۔جس کے پیچھے چاروں طرف سے شکاری کتے لگ جاتے ہیں اور وہ مختلف طریقوں سے اپنی جان سجانے کی کوشش کرتا ہے۔پس ہم معین صورت میں کسی شخص پر الزام نہیں لگا سکتے۔مارشل لاء سے پہلے بھی ہم پر سختیاں کی گئیں اور ہمارے لیے یہ نتیجہ نکالنا بالکل ممکن تھا کہ اس کا اصل موجب کون شخص تھا ہاں ہم شہادتوں کو دیکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں۔کہ صوبیجانی حکویت میں قطعی طور پر بے عملی پانی جاتی تھی۔ہمیں یہ سن کر نہایت ہی تعجب ہوا ہے۔کہ اس وقت کے وزہ پر اعلیٰ کا صرف یہی خیال تھا که داول) ان کو اس امر کے متعلق رہی کا ہہ دائی کرنی چاہیئے جس کے متعلق ان کے مانخت رپورٹ کریں۔ا مسودہ پر دھبہ کی وجہ سے پڑھا نہیں گیا اس لیے اندازا لکھا گیا ہے