تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 319
۳۱۸ یہی درج ہے کہ امام جماعت احمدیہ کو جن باتوں کے ذکر کرنے سے آپ نے سیفٹی ایکٹ کے ماتحت منع کیا ہے انہی کے متعلق آپ اُن سے اعلان کروانا چاہتے ہیں پیس آپ تحریہ دے دیں تو میں اُن سے اعلان کروانے کی کوشش کروں گا۔چیف سیکرٹری نے کہا اچھا پھر مسودہ بناکر بھجوا دیں ہی اس کی تصدیق کرونگا اس تصدیق شدہ مسودہ کو شائع کرنے کے خلاف اب یہ کارنہ والی کی جارہی ہے اور با وجود اس کے کی جارہی ہے کہ تھانیدار کو کھو کہ یہ دے دیا گیا کہ یہ اعلان گورنمنٹ کی خواہش پر اور چیف سیکریڑی کے حکم سے کیا گیا ہے۔کیا میاں انور علی صاحب لاہو رہیں چیف سیکرٹری صاحب سے نہیں پوچھ سکتے تھے۔جو یہاں جھنگ میں ڈی۔ایس۔پی سے تحقیقات کروا رہے ہیں۔اس پر ڈی ایس۔پی صاحب نے کہا کہ ہم تو حکم کے بندے ہیں۔جو کچھ افسروں نے لکھ بھیجا ہے اس کی تعمیل ہم نے کرنی ہے اس پر امام جماعت احمدیہ نے ان کو کہا کہ یا درکھیں ایک بالا حکومت بھی آسمان پر ہے وہ ان فلموں کا بدلہ لے گی۔ملک عبداللہ صاحب کا واقعہ بھی لکھیں کہ ایک ایسے اشتہار کی بناء پر جس کو روک دیا گیا تھا ان کو سیفٹی ایکٹ کے ماتحت گرفتار کر لیا گیا پھر وہ واقعہ بھی لائیں کہ زمیندار کے بدلہ میں آثار کی اجازت دے دی گئی لیکن " الفضل کی اجازت نہ دی گئی پھر میاں شریف احمد صاحب اور ناصر احمد صاحب کا واقعہ بھی لائیں پھر ان Accidents کو بھی لائیں جو ان دنوں میں ظہور پذیر ہوئے۔ربوہ پر حملہ کی تیاری ہوئی۔باہر سے جھتے آئے اور ان کو کئی کئی مضلعوں میں سے گزرنے دیا گیا گور بوہ پر وہ حملہ نہ کر سکے مگر اشتعال پیدا کرتے رہے جس سے مقامی جماعتوں کو نقصان پہنچا۔ربوہ کے اردگر مکمل بائیکاٹ کیا گیا ایک ہفتہ تک نہ دودھ ملانہ تہ کاری ملی اور نا ر ضروریات زندگی جوایہ دگر دسے ملتی تھیں ملیں۔بچوں۔بوڑھوں اور بیماروں نے سخت تکلیف۔دن گزارے۔بعض غیر احمدی ملازموں یا تعلق داروں سے بہت تھوڑی مقدار میں چیزیں ہیتا ہو سکیں جو بڑہ کو بھی کافی نہ نہیں۔کئی دن تک کئی جگہ پر احمدیوں کو پانی میسر نہ آسکا۔ملکوں ان کو روک دیا گیا۔بعض جگہ پر ہفتہ ہفتہ دو ہفتہ تک کھانے پینے کی چیزیں لوگوں کو نہ ملتی نہیں دیل میں اگر کوئی احمدی مل جاتا تو اسے قتل کی دھمکیاں دی جاتیں ریل سے پھینک دینے کی دھمکیاں دی جاتیں (مولوی اسماعیل ودیا لگڑھی کا واقعہ اور بہت سے واقعات) ان واقعات کو پوری طرح سے یہ