تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 314 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 314

باتیں کرنی شروع کیں کیونکہ وفات یافتہ کے متعلق لوگوں کے جوش کام نہیں آسکتے لیکن زندوں کے متعلق آسکتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک احمدی ڈاکٹر میری مورد توکسی مریض کو دیکھ کہ آرہا تھا اور میں نے ہجوم دیکھ کر اپنی کار کھڑی کر لی تھی مشتعل ہجوم نے پہچان کہ ہزاروں آدمیوں کے جلسے سے صرف چند گز کے فاصلہ پہلے جا کر مار دیا۔لیکن یا دیود اس کے کہ واقعہ جلسہ گاہ کے قریب ہوا ہزاروں آدمیوں کے پاس ہوا پھر مجرم نہیں پکڑے گئے۔پھر اوکاڑہ میں ایک احمدی کو مار دیا گیا یہ بھی مولویوں کے اکسانے پر ہوا خود مجرم نے اقرارہ کیا کہ مولویوں نے کہا تھا کہ ان لوگوں کو ختم کرنا ثواب کا کام ہے۔اس کے بعد راولپنڈی میں واقعہ ہوا۔دن دھاڑے ایک احمدی کو جاتے ہوئے پبلک سیر گاہ پر مار دیا گیا اور وہاں بھی وہی وجیہ احمدیوں کے اشتعال دلانے کی منفی یہ چار قتل چار سال میں ہوئے اور ایک نوعیت کے ہوئے لیکن جو انگیخت کرنے والے تھے اُن کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی بلکہ ان کی امداد کی گئی۔چنانچہ مولوی عبدالرحیم صاحب درد دو سال ہوئے غیاث الدین صاحب کو جو اس وقت گورز کے سیکرٹری تھے ان کو ملے تو انہوں نے بتایا کہ آپ لوگ قربان علی خان صاحب انسپکٹر جنرل پولیس سے بھی میں انہوں نے بڑے زور سے گورنمنٹ میں رپورٹ کی ہے کہ جب تک منبع کو نہیں پکڑا جائے گا۔یہ فسادات دور نہیں ہوں گے۔احمدی کم ہیں اگر عوام الناس نے مولویوں کے جوش دلانے پر ایک ایک احمدی کو مارا اور خود پھانسی بھی چڑھ گیا تو تیجہ کیا نکلے گا نہ انضامن قائم ہوگا نہ امن جو لوگ اکسار ہے ہیں اُن کو کچڑ نا چاہیے چنانچہ ان کی تحریک پر احمدیہ جماعت کا ایک وفد قربان علی خان صاحب سے بھی ملا اور انہوں نے اسی کے خیالات کا اظہار کیار اس وفد میں غالباً شیخ بشیر احمد صاحب اور در و صاحب شامل تھے وہ تفصیلات بتا سکتے ہیں) اگر مصلحت کا تقاضا ہو تو عیاث صاحب کا نام چھوڑا جاسکتا ہے۔کیونکہ شاید ان پہ الزام آئے کہ گورنمنٹ سیکرٹ آوٹ کئے ہیں، لیکن با وجود ان تمام کوششوں کے نتیجہ کچھ نہ نکلا اور گورنمنٹ نے کوئی ایکشن نہ لیا اور جب چیف سیکرڑی سے ہمارے وفد طے تو انہوں نے کہا کہ وہ قانون لاؤ جس کے ماتحت ہم اڈیٹروں یا لیڈروں کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں جب کہا گیا کہ قانوں کے ذمہ دار تو آپ ہیں تو انہوں نے کہا کہ کوئی عام قانون نہیں جس کے ماتحت ہم ان لوگوں پر ہاتھ ڈال سکیں اور خاص قانونوں کو ہم استعمال نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اس سے اشتعال بڑھے گا۔یجب ۹۵۲ کے وسط میں ۱۴۴ دفعہ لگائی گئی تو مختلف مقامات