تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 313
۳۱۲ سے توانسا۔مثلاً ۱۳ را گست ۱۹۵۳ء کو تحر یہ فرمایا : - ١٣/٨/٠٣ ریم السلام علیکم ورحمة الله وبركاته مد یہ موقعہ ایسا ہے کہ ایک ایسا ہی شخص جماعت کی نمائندگی کر سکتا ہے میں کا دل گداز اور ایمان سے پر ہو بغیر ایمان کی زیادتی اور عقیدت کی فراوانی کے کوئی شخص اس فرض کو اس وقت ادا نہیں کر سکتا۔کمیشن کی کارروائی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود اور ان کے خلفاء کے رویہ اور نیتوں کے متعلق محملے کیے جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت تو دو شخص کھڑا ہونا چاہیئے جس کا دل سلسلہ کی غیرت سے بھر پور ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سلسلہ کی مہتک کی باتوں کو دیکھ کر پاؤں سے سرنگ شعلہ اٹھتا ہوا محسوس کرے بات کرتے وقت اس کی آوازہ میں لرزش اور آنکھوں میں چمک اور بانی ہو یہ وہ شخص ہے جو اس وقت کا حق ادا کر سکتا ہے۔ہم حق پر ہیں خدا ہمارے ساتھ ہے۔ہم کسی سے ڈرتے نہیں نہ کسی انجام سے فون کرتے ہیں لیکن بات کو مسیحی طور پر پیش کرنا ہمارے ذمہ ہے اور خدا تعالیٰ کے آگے ہمیں جواب دینا پڑے گا اس سلسلہ میں سیدنا حضرت مصلح موعود کا درج ذیل حضر مصلح موعود کا ایک اہم مکتوب مغرب خاص اہمیت رکھتاہے مکتوب حضور نے اپنے حرم حضرت سیدہ امتم منین صاحب مدظلہ العالی کو املاء کرایا تھا۔جو سندھ سے ، جولائی ۱۹۵۳ء کو موصول ہوا۔السلام علیکم ورحمه الله نذیر علی صاحب آئے۔تین خط انہوں نے دیئے سول پہلے پڑھ چکا تھا۔کورٹ کے ڈیکلریشن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس انکوائری کا مقصد اس سے زیادہ وہ سمجھتے ہیں جتنا کہ گورنمنٹ کے اعلان سے معلوم ہوتا تھا اور اس انکوائری میں خطرہ ہے کہ بعض لوگ بات کو بگاڑ کہ اس انکوائری کو مذہبی اختلاف اچھالنے کا موجب نہ بنائیں۔حجز دونوں ہوشیار ہیں لیکن بعض دفعہ وکلاء ہوشیار بچوں کو بھی ادھر سے اُدھر سے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری طرف سے یہ مواد پوری طرح بہتا ہونا چاہیئے کہ دو تین سال سے یہ کار ہوائی ہور ہی تھی مگر حکومت نے کچھ نہیں کیا کوٹہ کا قتل سب سے پہلے ہوا۔جلسہ خلیفہ المسیح کے گھر کے سامنے کیا گیا اس میں تقریریں یہ کی گئیں کہ مرزا صاحب نے تو ایسے دعوے نہیں کیے تھے مگر ان کے لڑکے نے ایسی