تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 306
(ب) جماعت اور خلافت کے وقار کے خلاف کوئی بات نہ کہی جائے۔(ج) اگر فریق مخالف کی طرف سے کوئی مزعومہ تضاد حضور اور حضرت مسیح موعود کے بیانات میں پیش کیا جائے یا حضور کی اپنی تحریروں اور اعلانوں میں کوئی مزعومہ تضاد پیش کیا جائے تو ایسے تضاد کو تسلیم نہ کیا جائے اور بہر حال ایسے امر کا جواب حضور سے پوچھ کر دیا جائے۔(2) دینی اور مذہبی امور اور حوالہ جات کو پیش کرتے ہوئے چوہدری اسد اللہ خان صاحب کو آگے کر دیا جائے یا وہ نہ ہوں تو خادم صاحب اور شمس صاحب کے مشورہ سے کام کیا جائے۔وغیرہ وغیرہ مطابق ہدایت بالا کہ کوئی بات حضور کی کسی جاری شدہ ہدایات کے خلاف نہ ہو۔خاکار ارشاد حضرت مصلح موعود ) مرزا البشير احمد ۲۹ مرے نزدیک تو ٹھیک جواب ہے“۔شیخ صاحب۔چوہدری اسد اللہ خان صاحب - درد صاحب - خادم صاحب شمس صاحب اور چو ہدری غلام مرتضیٰ صاحب کے نام ہارا بہت جاری کی گئی۔مر البشير احمد تحقیقاتی عدالت کے طریق کار کی روشنی میں صدر انجمن احمدیہ جماعت احمدیہ کالائحہ عمل پاکستان نے ابتدا ہی میں ایک عمل لائحہ عمل مرتب کرلیا تھا جو حسب ذیل الفاظ میں تھا : بسم الله الرحمن الرحيم محمده ونصلى على رسوله الكريم تحقیقاتی کمیشن برائے گزشتہ مفادات کے متعلق جماعت احمدیہ کالا تحمل جون و جولائی ۱۹۵۳ء حکومت پنجاب نے جو تحقیقاتی کمیشن گزشتہ فسادات کے بارے میں تحقیق کرنے کے لیے مقرر کیا ہے۔اور کمیشن نے اپنے کام کے متعلق جو طریق کار تجویز کر کے شائع کیا ہے۔