تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 256
۲۵٫۲ چوتھا باب حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت مرزا ناصر احمد نجات یکم اپریل سوار کو پیش آنے والے واقعات میں کی گرفتاری اور قید بامشقت اور جرمانہ المناک ترین واقعہ جس نے دنیا بھر کے احمدیوں کو نڈ یا دیا یہ تھا کہ ندین باغ لاہور سے حضرت مسیح موعود کے لخت جگر حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت مصلح موعود کے فرزند اکبر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر حمد صاحب پر نسپل تعلیم الاسلام کالج لاہور گر فتار کر لیے گئے اور فوجی عدالت نے انہیں مارشل لاء ضوابط نمبر 1 کے تحت بالترتیب ایک سال قید بامشقت اور پانچ ہزار روپیہ جرمانہ اور پانچ سال قید با مشقت اور پانچ سوروپیہ جرمانہ کی سزا دی یہ اور قریباً دو ماہ کے بعد ۲۸ مئی ۱۹۵۳ کو رہا کئے گئے تے صبر تحمل اور توکل کے حیرت انگیز منو نے جناب بشارت احمد صاحب جوئیہ ریٹار ڈیفینٹ اور منو کرنل کا بیان ہے کہ سنہ میں یہاں اپنے ہم پیشہ دوافسروں کا ذکر کروں گا۔نام مصلحتاً نہیں لے رہا مگر واقعات بالکل درست ہیں اور عین ان کے بیان کے مطابق ہیں۔ایک لیفٹیننٹ (جواب بریگیڈیر ہیں) نے بتایا کہ ۹۵ او میں ان کو رات کے وقت حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو جو اس وقت لاہور میں پرنسیاں تعلیم الاسلام کالج تھے رتن باغ کی عمارت سے گرفتار کرنے کے لیے وارنٹ دیئے گئے۔یہ افسر وقت مقررہ به رین باغ گئے تو انہوں نے مکان کی دوسری منزل کے ایک کمرہ سے پر دو ں سے نکلتی ہوئی روشنی کو دیکھ کر کچھ تعجب کا اظہار کی گھنٹی ہائی۔ایک خادم پانچ منٹ کے اندر اندر نیچے اُتھا۔جب حضرت مرزا صاحب کے متعلق معلوم کیا کہ کیا کر رہے ہیں تو جواب ملا کہ نماز پڑھ رہے ہیں۔سے نوائے وقت لاہور اور اپریل ۱۹۵۳ ، صفحه علا ینہ سے نوائے وقت لاہور مارا پھر پل د و مرا و راپریل ۱۹۵۳ د ماہ سے المصلح کراچی ۲۹ رمئی ۱۹۵۳ ءوسل