تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 241
۲۳۹ منجانب ناظر امور عامه جماعت احمدیہ پاکستان سه بوده نمبر ۱۹۶ - مورخه ۱۲ر ما سر چ ۱۹۵۳ بخدمت جناب جی۔ایم۔منصور صاحب پی یسی۔ایسی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ۔چنیوٹ کیمپ۔جناب عالی۔آپ کا مراسلہ نمبر ۱۰۴ مورخ ۱۲ مارچ ۱۹۵۳ ء ا بھی ملا۔اس کا جواب درج ذیل سطور میں) ملاحظہ فرمائیے۔موجودہ صورتحال کی نزاکت کا ہمیں پوری طرح احساس ہے اور جیہانتک ہمارے اختیار میں ہے ہم حکومت سے کمل تعاون کی پالیسی پر کار بند ہیں۔تا ہم اس تعاون کو سہل بنانے کی غرض سے ہیں جناب سے درخواست کروں گا کہ میں تار یا تاروں کو قابل اعتراض سمجھا گیا ہے ان کی نوعیت اور مواد سے مجھے مطلع کیا جائے۔نیز تار بھیجنے والوں کے اسماء سے بھی اطلاع دی جائے۔علاوہ انہیں آپ کے مراسلہ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ آیا جوحالات اب پیدا ہو گئے ہیں اور جو خطرات ہماری جماعت کے افراد کو مختلف مقامات پر درپیش ہیں ان کے بارے میں متعلقہ ڈپٹی کمشنروں ، پنجاب گورنمنٹ کے سیکرٹریوں۔انسیکٹر جنرل پولیس پنجاب یا مرکزی حکومت کے عہدہ داروں کو تامہ کے ذریعہ اطلاعات دینے کی بھی ممانعت ہے ؟ کیا ایسے تاروں پہ بھی آپ کی ہدایات حاوی ہیں ؟ مجھے امید ہے کہ آپ مہربانی فرما کہ مندرجہ بالا دونوں وضاحت طلب امور کے بارے میں جلد از جلد مطلع فرمائیں گے۔آخر میں پھر ہم آپ کو اپنے بہترین تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔یں ہوں جناب کا ادنی اخف دم راعجاز نصر اللہ خاں) ناظر امور عامه ربوہ