تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 231
۲۲۹ جوم حملہ آور ہوگیا اور اس نے قتل وغارت کی دھمکی دی مگر اندر سے صرف ایک ہی آواز آئی اور وہ یہ کہ ہم اپنے آقا کے حکم کے ماتحت گھر میں رہیں گے احمدیت کو نہیں چھوڑیں گے خواہ میں قتل کر دیا جائے یا ما را سامان لوٹتے لیا جائے۔اس آواز میں کچھ ایسا اثر تھا کہ ہجوم کا رخ پلٹ گیا اور شرمند لوگ واپس چلے گئے۔لاہور کے ایک احمدی دوست جنہیں حالیہ فسادات میں دکان کے مل جانے کی وجہ سے تقریباً بیس ہزار روپیہ کا نقصان ہوا ہے سیدنا حضرت مصلح موعود نہ ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں اخلاص و عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔جو مال ہمارا گیا ہے ہم خوش ہیں کہ حریت کے نام پر گیا ہے۔ان تمام واقعات سے جو ہماری آنکھوں نے دیکھے سہارا ایمان اور بھی مضبوط ہوا۔حضور دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ایمان کی حالت میں موت نصیب کرے یا آمین بیرونی جماعتوں سے آمدہ خطوط سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی تک بہت سی جگہوں پر افواہیں پھیلانے کی باقا عدہ مہم جاری ہے مثلاً ضلع سیالکوٹ کے ایک حصہ میں یہ افواہ پھیلائی جارہ ہی ہے کہ ربوہ کو جلا دیا گیا ہے اور جو احمدی وہاں تھے انہیں یا تو زندہ جلا دیا گیا یا قتل کر دیا ہے اسی ضلع کے بعض دوسرے مقامات پر یہ چھہ چا کیا جارہا ہے کہ ۵ لاکھ پٹھان ربوہ پر حملہ کرتے ہے ہیں۔تعجب ہے کہ اگر نعوذ باشد ریوہ واقعی جل چکا ہے تو وہ لاکھ پٹھانوں کو یہاں حملہ کیلئے آنے کی کیا ضرورت پڑی ہے ؟ دوستوں کو جھوٹی افواہوں کی طرف سے بہت ہوشیار رہتا چاہیے۔سیکرٹری صاحب مجلس مشاورت کی طرف سے جماعتوں کو یہ اطلاع بھجوائی جا رہی ہے کہ قواعد کے لحاظ سے جماعتوں کو پہلے جتنی تعداد میں نمائندے بھیجوانے کا حق تھا اس دفعہ انہیں اس سے نصف تعداد میں نمائندے بھجوانے چاہیں۔نیز یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اگر وقتی حالات کے ماتحت امیر یا صدر کو اپنی جگہ چھورنا مناسب نہ ہو تو وہ اپنی جگہ کوئی دوسرا ذمہ دارینا شده مشاهد ے لیے بھجوا سکتے ہیں۔ضلع سرگودہا کے ایک احمدی دوست کی اطلاع کے مطابق معہ دودی ہماری جماعتوں میں بعض ایسے نوجوان پھیلا رہے ہیں جو فتنہ پیدا کرنے کی غرض سے احمدیت قبول کر لیتے ہیں اور