تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 186
JAY فصل اوّل ریاست بهاولپور اگر چہ ریاست بہاولپور میں حکومت نے امن قائم رکھنے کی پوری کوشش کی مگر شہری آبادیوں اور اُن مقامات پر جہاں احمدی اِسے رُکتے تھے نچلے درجہ کے حکام کی جانداری اور بزدلی کے باعث شور وسر بلند رہا اور فضایت سموم رہی۔یہاں منڈی میں چوہدری محمد شریف صاحب، چوہدری محمد امین صاحب کمینٹ اینٹی صادق آباد کی واحد احمدی دکان تھی جس کومشتعل ہجوم نے زبر دست بند کرا دیا اور پولیس اکل خاموش رہی۔شہر یارون آبا د اور اس کے ملحقہ چکوک نمبر دے ، چک نمبر ۹ ، بارون آبا دا در مطلقه چلوک نہ یا کڑا۔چک نمبر تیم ، چک نمبر ۱۵۲ با کڑا۔چک نمبر 2 -A چک نمر نبیلہ چک نمبر ہیں اور چک نمبر تعلیم ک احمدیوں کو تکالیف پہنچائی گئیں اور چک نمبر پلیم کے احمدیوں پر حملہ بھی کیا گیا۔چک نمبر ہتھیلی میں شرپسندوں نے اشتعال انگیز نعرے لگائے اور معیقی، محمدیوں کو پکڑ کر و کمکی دی گئی کہ یا تومسلمان ہو جاؤ ورنہ ہم تم کو مار ڈالیں گے۔ایک احمدی پیر شد صاحب نے کمال جرات ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ "بے شک تم مجھے مالہ ڈالو لیکن احمدیت خدا تعالے کی طرف سے ہے اس لیے میں احمدیت کو جان سے عزیز سمجھتا ہوں اور احمدیت کو نہیں چھوڑونگا۔اس پر ایک شخص نے کہا کہ اچھا اس کو کل تک مہلت دیجائے لیکن وہ لوگ پھر واپس نہ آئے۔۔بہاولنگر شہر مضلع ریاست کے اندر مخالفت کا زیا دہ تر زور ان دنوں ضلع بہاولنگر میں تھا جہاں احمدی زمینداروں کی فصلیں فروخت ہونا بند ہوگئیں