تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 158
104 کیا تھا۔تو انہوں نے بتایا کہ اس کا فیصلہ ہو رہا ہے۔آج صبح یہاں جماعت کے احباب نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ جہاں جہاں احمدی اکیلے ہیں۔وہ یا تو دوسرے اس محلہ کے احمدی کے گھر چلے جائیں اور یا پھر اپنے اپنے محلہ میں ایک Packet بنا لیں اور وہاں سب اپنی حفاظت کریں۔ایک جیپ کا انتظام کر کے پولیس سے مدد کی کوشش کی جا رہی ہے۔کہ وہ امداد دیں۔تاملہ جات وغیرہ میں گشت کر کے احمدیوں سے Contact قائم رکھا جائے۔اور جو مدد ہو سکے دی جاوے۔یوں احمدیوں کی آمد و رفت یام مشکل ہے۔اور خطرہ سے خالی نہیں۔گورمنٹ کا ابھی ابھی اعلان ہوا ہے۔کہ پنجاب کی حکومت نے یہ فیصلے کیے ہیں۔کہ وہ اس تحریک کے لیڈران سے گفت و شنید کرے۔مرکزی حکومت کو سفارش کی جارہی ہے کہ وہ چوہدری صاحب کو مستعفی ہونے پر مجبور کریں۔کیونکہ یہ عوام کا مطالبہ ہے۔آج شام کو شیخ بشیراحمد صاحب کے مکان پر بھی حملہ ہوا۔کوئی ایک ہزار کا ہجوم تھا۔پولیس بھی اس وقت موجود نہ تھی اس لیے اپنے والنٹیٹرز نے اس حملہ کو بندوق چلا کر کامیابی کے ساتھ واپس کیا۔اب میں یہ خط شام کے ساڑھے آٹھ بجے مکمل کر رہا ہوں۔چاروں طرت سے نعروں وغیرہ کی آواز آرہی ہے ابھی تک حالات پوری طرح قابو میں نہیں آئے۔گو کچھ فرق پڑتا نظر آرہا ہے۔حضور خاص طور پر دعا فرما دیں۔اور اگر کوئی ہدایات ہوں تو وہ بھی ارشاد فرما دیں امید ہے کہ آئندہ بارہ گھنٹڈ نیک فوج حالات پر مکمل طور پر قابو پا لے گی۔قیوم اور میں کل شام سے رتن باغ آگئے ہیں۔بعض دوست ملک عبداللہ خالد اور دوسرے دوست کہ رہے ہیں۔کہ یہاں آجاؤ۔لیکن باقی عزیزوں کے ساتھ رتن باغ میں ہی رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے پرسوں اور آج ہمارے سیکر ٹریٹ کے کلرکوں نے بھی ہڑتال کر دی۔اور کمپاونڈ کے اندر فرے ه ای و کیف امیرجماعت ام یا اور ماروی، که مراد صاحبزاری بته القیوم بیگم صاحبہ ہ ایڈوکیٹ احمدیہ