تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 156 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 156

۱۵۴ محبوب عالم صاحب کی دکانات بیل چکی ہیں۔جہاں تک لوٹ کا سوال ہے کئی دکانیں اُٹ چکی ہیں۔ہمارے خلص کارکن جنہوں نے موجودہ فتنہ میں اپنی طاقت سے بڑھ کر کام کیا ہے اور جن کی خاص سفارش کرنی چاہتا ہوں و محمود الحسن پاکستان گھی سٹور ہیں۔اس وقت ان کی دکان بھی لٹ چکی ہے۔اور شہر سے کئی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں۔۔۔۔۔۔آج شیخ نور احمد صاحب (وکیل) کے حالات بہت تشویشناک صورت اختیار کر گئے ہیں۔پرسوں رات اُن کے گھر پر خشت باری ہوئی شیشے توڑ دیئے گئے۔گزشتہ شب اُن کے گھر پر حملہ بھی ہوا لیکن زیادہ سنگین حالات رونما نہیں ہوئے۔آج حالات زبوں تر ہو گئے اور ان کے بال بچوں کو ایک وکیل صاحب نکال کر لے گئے نہ مجھے اطلاع موصول ہوئی کہ اُن کی جان خطرہ میں ہے :۔میرے ساتھ کے کرایہ داروں کا ایک لڑکا ہوائی جہازوں میں ملازم ، اس نے اپنے مکان کے حصہ سے ضروری سامان لے جانے کے لیے ایک ترک منگوایا جس کے ساتھ فوج کے سپاہی بھی تھے۔میں نے اس لڑک کو وہاں بھجوا کہ ان کو اپنے ہاں بلوا لیا۔وہ ابھی نیچے ہی تھے کہ ان کے گھر کے سامان کو نکال کر آگ لگا دی گئی۔اور سیاہ دھواں آسمان سے اٹھتا نظر آیا۔وہاں سے تاریخ ہو کر مجمع اُمنڈتا ہوا سا ٹمپل روڈ پر حملہ آور ہوا۔گلی والے دروازے کو آگ لگا دی۔ٹمپل روڈ والے دروازے کو توڑ کر اس میں داخل ہو گئے۔سر عبد القادر کی کو بھٹی پر بھی چڑھ گئے اور مٹرک سے بھی اور اردگرد سے بھی شدید خشت باری شروع کر دی۔اس سے پہلے وہ میرے بورڈوں کو آگ لگا چکے تھے اور ساتھ لے بھی گئے تھے۔حالات جب بے قابو ہو گئے تو میرے رفیقوں نے جن کے پاس بندوقیں نھیں ہوا میں فائر کئے لیکن اعجاز الحق صاحب جن کی گولی مجمع میں سے کسی کو لگ گئی وہ شاید زخمی ہوا یا مر گیا۔ان گولیوں سے مجمع منتشر ہو گیا اور کو بھی آگ لگنے اور جانیں ضائع ہونے سے بچ گئی۔اسی عرصہ میں ملک عبد الرحمن صاحب کی کو بھٹی کو بھی لوٹ لیا۔اسی طرح ملک عبدالرحمن صاحب جو ڈاکٹر یعقوب صاحب کے بھائی ہیں اور رفعت محمود صاحب صاحب جو لکشمی بلڈ نگر میں بیڈن روڈ اور مال روڈ کے ساتھ لگی ہوئی عمارت میں رہتے ہیں ان کا انخلاء کر کے لے جہاں شیخ بشیر احمد صاحب مقیم تھے