تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 6
اس کی حمایت کر رہے ہیں اور وہی اسے چلا رہے ہیں۔لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے احراز مسلسل اور سختی کے ساتھ مسلمانوں کی تحریک آزادی کی مخالفت کرتے رہے اور انہوں نے ان لیڈروں اور جماعتوں سے تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا جو حصول پاکستان کی جدوجہد میں مصروف تھے۔تقسیم سے قبل بہت سے احرار لیڈروں نے کانگرس اور ان جماعتوں کا ساتھ دیا اور ان سے گہرا تعاون کیا جو مسلمانوں کی جنگ آنزادی میں قائد اعظم مرحوم کے مقابلہ پر صف آرا تھیں۔قیام پاکستان کے بعد بھی اپنی انتشار پسند سرگرمیوں کو ترک نہیں کیا۔ہمارے پاس اس امر کی معتبر شہا دنہیں ہیں کہ احمرار اب بھی پاکستان کے نظریہ کو تسلیم نہیں کرتے۔احرار لیڈروں نے پاکستان کے دشمنوں کے اشاروں کر اور ان کی مدد سے مسلمانوں میں انتشار پھیلانے اور پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر مکانی کوشش کی ہے نے کاکا " وزیر دفاع جناب سکندر مرزا صاحب نے ۲۶ فروری ۱۹۵۳ء کو خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان کو خفیہ مکتوب لکھا کہ : - آپ کے ذاتی دشمنوں نے جن میں ملا بھی شامل ہیں جو مسائل کھڑے کر دیئے ہیں اگر سختی سے نہ دبائے گئے تو ملک کی پوری انتظامیہ کو تباہ کر کے رکھ دیں گے۔کافی عرصے سے میں اپنی انٹیلی جینس کے آدمیوں کو کراچی میں جلسوں وغیرہ میں بھیج رہا ہوں جہاں آپ کو اور حکومت کو کھلے عام جو گالیاں دی جاتی ہیں وہ انتہائی اشتعال انگیز اور تیز و تند نوعیت کی ہیں۔۔۔۔۔۔کیا مذہب اسی کا نام ہے کہ سب سے بڑی اسلامی ریاست کی انتظامیہ کی بنیا دوں کو تباہ کر دیا جائے ؟ قاہرہ میں سر ظفر اللہ خاں کا استقبال پورے احترام اور عزت کے ساتھ کیا گیا۔وہ تمام عرب ممالک کے مرید ہوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جن کی نظر میں ان کی بہت عزت بھی ہے لیکن کراچی میں عام جلسوں میں انہیں گالیاں دی جارہی ہیں اور ان کی تصویر پر مفلو کا جارہا ہے۔گزشتہ رات ا روز نامہ جنگ کراچی یکم مارچ ۱۹۵۳ء