تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 139
دودھ لانے سے روک رہا ہے اس نے یہ افواہ بھی پھیلائی ہے کہ ربوہ والوں نے دودھ پہنچا نیوالی خواتین میں سے ایک کو بری طرح ہلاک کر دیا ہے۔حالانکہ اس میں کوئی صداقت نہ تھی۔۱۲ مارچ۔پتہ چلا کہ موضع کچھی اور ملحقہ دیہات کے لوگوں پر ربوہ کا معاشی بائیکاٹے کرنے کے لیے سخت دباؤ ڈالا جارہا ہے مگر اس میں انہیں کامیابی نہیں ہوسکی۔یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض دبہات میں یہ مشہور کیا جارہا ہے کہ ربوہ میں گندم اور سکی کی گاڑیاں آگئی ہیں نیز دودھ گھی وغیرہ بھی بذریعہ ریل بہتات کے ساتھ پہنچ رہا ہے اس لیے بائیکاٹ کرنے والے صرف اپنا نقصان کر رہے ہیں۔چنیوٹ سے چوہدری جمال الدین احمد صاحب نے مفصل رپورٹ بھجوائی کہ یہاں آج احمدیوں کے خلاف مکمل اقتصادی بائیکاٹ شروع ہو گیا ہے۔اس دن دکانوں پر بورڈ لگا یا گیا کہ مرزائی اصحاب سے سودا مانگ کر شرمندہ نہ ہوں بازار میں والنٹر ز گھومنے لگے جو دکانداروں کو احمدیوں کے پاس مود افروخت کرنے سے منع کرتے تھے اور ۵۰ روپے جرمانہ کی دھمکی دیتے یا دکان لوٹ لینے کی۔احمدی دکانداروں کو سودا اور پھل دینے سے منع کر دیا گیا۔ایک احمدی با با فضل الہی صاحب آٹا پسوانے کے لیے گئے تو مشین والوں نے انکار کر دیا۔فضا یکدم زیادہ خراب ہوگئی۔اشتغال بڑھ گیا۔بعض احمدی دکانوں پر تھا کیا گا کھلم کھلا تشدد یعنی احمدیوں کو قتل کرنے یا مرتد کرنے کے لیے دھمکیاں دی جانے لگیں۔اور ان کے مکانوں کو نذر آتش کرنے کے اراد سے ظاہر کیے جانے لگے اور شہر مکمل طور پر انارکی کی لپیٹ میں آگیا جس کا اللہ ایہ دگرد کے دیہات میں بھی پوری سرعت سے پھیل گیا۔سیکرٹری صاحب امور عامہ جماعت احمد بہ چنیوٹ نے بھی اس دن جو ابتر اور تشویشناک حالات مرکزہ میں ارسال کیسے ان کے آخر میں لکھی کہ ایسے حالات میں جماعت ہے میں ہے چند روز میں بھوک کا شکار ہونا شروع ہو جائیں گے نیز اپنے گھروں میں ہر وقت اندر ہی خطرناک حالات کی بنا پر رہتے ہیں مجبوری کے وقت بانانہ میں جاتے ہیں ہماری حالت قابل رحم ہونے والی ہے خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ جلد مدد کے لیے پہنچے یا حضرت مصلح موعود نے اس رپورٹ پر اپنے قلم مبارک سے تحریر فرمایا یہ