تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 4
یہ سب کچھ ہو اسی نام پر رہا ہے، کیا یہ تمام حرکات بجائے خود تو این سرور کائنات کی ذیل میں نہیں آتیں ؟ بینوا و توجیہ والے اسی اخبار نے اپنی ۲۳ مارچ ۱۹۵۳ء کی اشاعت صف میں لکھا۔در کوئی شک نہیں کہ تحفظ ناموس رسول پر ہم دنیا کی پیاری سے پیاری چیز قربان کرنا ہی اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔لیکن ایثار و قربانی جیسی پاکیزہ اور قابلِ رشک چیزوں کے ساتھ ہم کسی طرح بھی ہڑبونگ، ، ہلڑ اور فساد کا پیوند نہیں لگا سکتے ناموس رسالت کا صیح پاس اسی دل کو ہو سکتا ہے جو رسول کی شان رحمت کے حدود کو بھی سمجھتا ہو وہ رحمت جو عالمین کو محیط ہے جس کے دامن حیات آفرین میں طائف کے پتھر مارنیوالے بھی دعائے نیک کے مستحق ٹھہرتے ہیں اور نگہ کے جانی دشمن بھی یہ پیام سنتے ہیں لا تشریب علیکم اليوم - سڑیونگ ، ہلڑ اور فساد کو رحمت اللعالمین نے کسی طرح کی صورت میں بھی جائزہ قرار نہیں دیا۔ختم نبوت کے مسئلے کا تعلق ، ایمان و اعتقاد کی پاکیزگی کبھی کسی اکراہ کی روادار بھی نہیں چہ جائیکہ فتنہ و فساد اس سے وابستہ ہو جائے ، ۴ - اخبار مغربی پاکستان لاہور نے 4 مارچ ۱۹۵۳ء کے اداریہ میں لکھا :۔رو خدا اور میں محمد کے نام کے ساتھ انتہائی غلیظ اور قابل نفرت گالیاں دی جاتی ہیں تشدد کے مظاہرے کیئے جاتے ہیں ، گاڑیاں روک لی جاتی ہیں، اور ہر ہجوم کی طرف سے ہر طرح کی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ہم مسلمانان پنجاب سے گزارش کریں گے کہ وہ مذہب کے معنے غلط نہ سمجھیں اور مذہب کو اس طرح نہ اچھا لیں کہ آپ ختم ہو کہ یہہ جائیں۔علماء نے آپ کو غلط بات بنائی ہے۔خدا کے لیے ہر شخص مذہب کا ٹھیکیدار نہیں ہو سکتا۔مذہب ہر شخص کا اپنا اپنا ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص مسلمان نہیں تو گیا آپ کا اسلام یہ سبق دیتا ہے کہ آپ۔شه روزنامه آفاق به ر مارچ ۱۹۵۳ م کالم ۳