تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 81
تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ لِه یعنی حکومت خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے حکومت دیتا ہے وہ میں سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔لوگ کہتے ہیں فلان شخص نے لڑائی کر کے حکومت لے لی ہے، فلاں شخص نے غصب کر کے حکومت لے لی ہے یا فلاں شخص نے بغاوت کر کے محکومت کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے، لیکن ہر حکومت میں خدا تعالیٰ کی مرضی ضرور شامل ہوتی ہے۔جس طرح انسان کی پیدائش میں خدا تعالیٰ کی مرضی شامل ہے جس طرح انسان کی موت میں خدا تعالیٰ کی مرضی شامل ہے۔جس طرح رزق میں خدا تعالیٰ کی مرضی شامل ہے اسی طرح اس کی مرضی حکومت میں بھی شامل ہوتی ہے پیشک اس میں انسانی اعمالی کا بھی دخل ہے۔بیشک اس میں انسانی کوششوں ، ہستیوں اور غفلتوں کا بھی دخل ہے لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ ہماری طرف سے ہے۔جس طرح موت اور حیات خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اسی طرح حکومتوں کا بننا اور ٹوٹنا بھی بعد اتعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔کسی قوم کی موت اور حیات اس کا ٹوٹ جاتا اور بنتا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔جب ہم کہتے ہیں تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ نَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ لَشَاءُ - تو حکومتوں کا بننا اور ٹوٹنا بھی بعد اتعالیٰ کے اختیار میں ہوا۔اور جس قدرا کے ہاتھ میں حکومت کا قائم کرنا ہے جس خدا کے ہاتھ میں حکومتوں کا بنتا اور ٹوٹنا ہے وہی خدا حکم دیتا ہے کہ تم اپنی تکلیفیں افسران بالا کے سامنے لے جاؤ اور اس سے فائدہ نہ اُٹھانا بیوقوفی ہے۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم مذہبی لحاظ سے بار بار اپنی تکالیف گورنمنٹ تک پہنچائیں۔اس طرح اگر کوئی افسر فرض شناس ہو گا تو وہ ہماری مدد بھی کرے گا اور میں فائدہ پہنچائے گا۔لیکن اگر وہ تمہیں فائدہ نہیں پہنچائے گا تو تم بغدا تعالٰی کے سامنے یہ کہہ سکو گے کہ اسے خدا جو ذریعہ اصلاح کا تو نے بتایا تھا وہ ہم نے اختیار کیا ہے یا پھر تم یہ بات بھی مت بھولو کہ تمہارا تو حمل خدا تعالیٰ پر ہے حکومت پر نہیں پھر جہاں تمہارا یہ ه آل عمران : ۲۸