تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 64
۶۲ حضور نے ۲۵ امان / مارچ کو ایک پر یس کا نفرنس سے خطاب فرمایا جس کی پریس کانفرنس تعداد اخبار المصلح کراچی (مورخہ ۲۸ مارچ ۱۹۵۲ء) کے الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے:۔حضرت امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے گزشتہ روز حیدرآباد میں صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :- یکن تو سمجھتا ہوں کہ مہاجر و انصار کی تعریف کو ختم کرنا چاہئیے اور ہمیں اس کی بجائے پاکستانی کے لفظ کو استعمال میں لانا چاہیے۔میں ذاتی طور پر تو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھتا ہوں کہ ہنڈوں نے ہمیں مسلمان سمجھ کر نکال دیا مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں پاکستان میں حفاظت کی جگہ دے دی یا زبان کے مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے فرمایا : میں اصولاً تو یہی سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی زبان لازمی طور پر اردو ہے لیکن موجودہ حالات میں یہ ضروری ہے کہ بنگالیوں کی دلجوئی کر کے ان کے ساتھ محبت اور ہمدردی کے جذبات رکھے جائیں اور زبان کے سوال کو موجودہ حالات میں اُٹھانا اور خواہ مخواہ اس مسئلہ کو اختلاف کی بنیاد بنانا درست نہیں " ایک سوال کے جواب میں مسئلہ جہاد پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے فرمایا :- " ہم قرآن کریم کو مانتے ہیں۔لامحالہ جو چیز قرآن کریم میں ہوگی وہی ہمارا عقیدہ اور مسلک ہوگا ہاں اس کی توضیح اور مفہوم میں فرق ہو سکتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد دشمنوں کے عملوں کے دفاع کا نام ہے اور ایک دفعہ دفاعی جنگ شروع ہو جانے کے بعد اقدام بھی لازیا اس کا ایک حصہ بن جائے گا یا پاکستان میں آئندہ ماہ ہونے والی اسلامی ممالک کے وزراء اعظم کی کانفرنس کے متعلق آپ نے فرمایا :- جہاں تک میرا خیال ہے اس کا نفرنس میں باہمی عام مسائل پر عام مشورہ ہوگا اور اسکے فیصلے سب پر عائد نہیں کئے جائیں گے۔بہر حال یہ اقدام نہایت خوشکن ہے اور آئندہ کامیابیوں کا پیش خیمہ ہے کہ ه روزنامه الفضل ۲ شهادت ۱۳۳۱ مش / ۱۲ پریل ۲۱۹۵۲ ۳۰