تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 49
۴۷ پریزیڈنٹ جماعت احمدیہ انڈونیشیا اور دیگر نمائندگان جماعت نے خطاب فرمایا۔دوسرے دو دن جماعت احمدیہ انڈونیشیا کی ترقی و بہبود کے لئے بعض تجاویز زیر غور لائی گئیں اور ایک لاکھ چوراسی ہزار روپیہ کا بجٹ منظور کیا گیا۔یہ پہلا موقعہ تھا جبکہ جماعت کی آمد و خروج کا تفصیلی بحث جماعتی نمائندوں کے سامنے رکھا گیا۔بیٹ کے اعلان پر پریس کے رپورٹر ٹیران رہ گئے کہ ایک چھوٹی سی جماعت کیسی قدر اخلاص اور جوش سے اتنی بھاری رقم ادا کرنے کا وعدہ کر رہی ہے۔آخری اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ چوتھی سالانہ کا نفرنس تا کملایا میں ہو گی۔اس اجلاس میں مبلغین احمدیت نے دوبارہ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔آخر میں جماعت پاڈانگ کے مخلص پریزیڈنٹ جناب ابو بکر نے درد ناک تقریر کی جس سے اکثر احباب میشیم پر آپ ہو گئے۔کانفرنس ایک لمبی اور پرسوز دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔اگلے روز پاڈ انگ کے ایک بڑے سینما ہال کیپیٹل میں جماعت کا تبلیغی جلسہ ہوا جس کی تفصیلی رو داد مقامی پریس اور ریڈیو دونوں نے نشر کی۔مجاہدین انڈونیشیا ہمیشہ ہی اپنے اپنے رنگ میں پاکستان کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہے ہیں۔احمد ونیشیا میں پاکستان لیگ کا قیام سید شاہ محمد صاحب کی کوشش سے ہوا۔آپ اُن دنوں مرکزی آل انڈیا پاکستان لیگ کے وائس پریذیڈنٹ بھی تھے جو گجا کرتا جس زمانہ میں جمہوریہ انڈونیشیا کا دار الحکومت تھا۔آپ کو پاکستان کے لئے شاندار جد و جہد کرنے کا موقعہ ملا۔اس مرکزی شہر میں آپ نے اس محنت سے ملک و قوم کی خدمت کی کہ معلوم ہوتا تھا آپ پاکستان کے باقاعدہ نمائندہ ہیں۔ڈاکٹر ملک عمر حیات صاحب سابق سفیر پاکستان برائے انڈونیشیا جو گیا کرتا کے دورہ پھر تشریف لے گئے تو آپ کو مقامی اکابرین کے ذریعہ شاہ صاحب کی ان سنہری خدمات کا علم ہوا اور آپ بہت متاثر ہوئے۔اس سال ڈاکٹر صاحب اپنے دورے ہیں جہاں جہاں بھی تشریف لے گئے مبلغین سلسلہ اور دیگر احمدی افراد نے ان سے پورا پورا تعاون کیا خاص طور مکرم ڈاکٹر عبد الغفور صباحب احمدی سرا بایا نے (جن کی پر خلوص خدمات کو خود ڈاکٹر ملک عمر حیات صاحب نے خراج تحسین ادا کیا) بالی میں میاں عبدالحی صاحب بہلنے جزیرہ باکی نے ان کے اعزاز میں ایک پارٹی دی جس میں مقامی حکام ور وسار بھی مدعو تھے تا سکھلایا میں پاکستان لیگ کے صدر محرم ملک عزیز احمد صاحب