تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 48 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 48

۴۶ اس سال تا کملایا میں جماعت نے ایک با موقعہ جگہ زمین اور مکان خرید کر اسے دارہ التینے میں تبدیل کر دیا، جا کر تا کی خستہ مسجد ایک وسیع اور پختہ مسجد کی صورت میں از سر نو تعمیر کی گئی۔اس کے پہلو میں مبلغ کے لئے رہائشی مکان اور اس کے اوپر مہمان خانہ بنایا گیا۔پاڈا انگ کے ایک گہرا نے احمدی تاجر با گنڈا ذکریا صاحب نے اپنی گیرہ سے ایک یا موقعہ اور وسیع قطعہ زمینی اور مکان خرید کر جماعت کے نام وقف کر دیا۔ا تین ۳۳ ایش / فروری ۱۹۵۱ء میں جا کرتا میں مجلس خدام الاحمدیہ قائم کی گئی جس کے چند ماہ بعد مجلس اپنا رسالہ سینار اسلام (I NAR ISLAMکہ ) جاری کرنے میں کامیاب ہو گئی۔احمدی مبلغین کو دوران سال کئی ایک انڈونیش مین لیڈروں ، حکام اور دوسری بڑی شخصیتوں سے ملاقاتوں کا موقعہ ملا مکرم سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ اس سال بھی حسب سابق ملک کے پہلے صدر مملکت ڈاکٹر سکار نو (SUKARNO) کی طرف سے کئی تقریبوں پر مدعو تھے۔شاہ صاحب کا تعارف ڈاکٹر سکارنو سے پہلی بار بارچ ۱۹۴۷ء میں ہوا تھا جبکہ آپ نے تبلیغی مقاصد کے لئے جو گجا کرتا میں ان کے محل میں ملاقات کی اور لڑ پچر پیش کیا۔اس سال کا اہم واقعہ جماعتہائے انڈونیشیا کی تیسری سالانہ کا نفرنس کی کا انعقاد ہے جو ۲۸-۲۷ - ۲۹ ماه فتح / دسمبر کو پاؤڈانگ (سماٹرا ) میں ہوئی پہلی دو کانفرنسیں جاو امیں ہوئیں جہاں احمدیوں کی تعداد زیادہ ہے اور ذرائع آمد و رفت میں سہولتیں بھی ہیں لیکن سماٹر میں معاملہ اسکے برعکس تھا اور بیا و ا سے آنے والوں کے پندرہ میں دن صرف ہوتے تھے۔مرکزی عہدیداران میں نوے فیصدی سرکاری ملازم تھے جن کے لئے اتنی چھٹی کا طنا مشکل تھا پھر اخراجات سفر کا سوال الگ تھا لیکن ان مشکلات کے باوجود یہ کانفرنس نہایت کامیاب اور ازدیاد ایمان کا باعث ہوئی۔پہلے روز مکرم استید شاه محمد صاحب رئیس المبلغین ، مکرم مولوی عبد الواحد صاحب ، مکرم مولوی امام الدین صاحب ، مکرم مولوی محمد ایوب صاحب ، مکرم مولوی ذینی دحلان صاحب، مکرم سوکری بر مادی ها نے ان کے صاجزاد سے بختیار ذکریا صاحب ربوہ میں دینی علم حاصل کرتے رہتے ہیں وہ سے پہلی سالانہ کانفرنس ۹-۱۰ ۱۱ ماه فتح ۱۳۲۸ ایش/ دسمبر ۱۹۴۹ء کو جا کرتا ہیں اور دوسری ۲۴-۲۵۔۲۶ فتح ۱۳۲۹ اش / دسمبر ۱۹۵۰ء کو بانڈونگ میں ہوئی ؟