تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 483 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 483

کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیں گے بہندوؤں کی تو یہ دلی خواہش تھی ہی کہ جس طرح بھی ہو سکے قیام پاکستان۔کو روکا جائے چنانچہ انہوں نے دوبارہ اپنی تجوریوں کے پیٹ کھول دئے اور ان مولویوں پر بیدریغ روپے خروج کرنے شروع کر دئے۔جب مولوی کو روپے کی طرف سے اطمینان ہو گیا تو اس نے اب منظم طریقے سے مشرقی بنگال پر دھاوا بول دیا۔سب سے پہلے مولویوں کا گروہ مشرقی بنگال کے ایک بہت بڑے ضلع نو کھا لی پہنچا۔پورے بنگال میں تو اکھالی مولویوں کا گڑھ شمار ہوتا تھا بنگال میں یہ عام طور پر شہور ہے کہ نواکھالی کے مضلع ہیں مولویوں کی تعداد چار لاکھ کے لگ بھگ ہے ) یہاں ان مولویوں نے مقامی مولویوں کے تعاون سے ایک بہت بڑا جلسہ کیا اور متفقہ طور پر یہ فتوی دیا کہ مسلم لیگ میں شریک ہونے والے مسلم لیگ کو ووٹ دینے والے اور مسلم لیگ کی تحریک پاکستان کا ساتھ دینے والے فاسق فاجرہ کا فراور منافق ہیں۔ان مولویوں نے اسی فتوی پھر رہی اکتفا نہ کیا بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ مرکزی اسمبلی کے الیکشن میں جن لوگوں نے مسلم لیگ کے امیدواروں کو ووٹ دئے تھے وہ سب کے سب کا فر ہیں اور دین سے خارج ہو چکے ہیں لہذا ان کی بیویاں ان پر حرام ہو چکی ہیں اگر وہ صدق دل سے توبہ کر کے دوبارہ مسلمان نہ ہو جائیں تو ایسے میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کرا دی جائے۔مولویوں کے اس جلسہ میں شرکت کرنے والوں کا بیان ہے کہ کئی آدمی جلسہ ہی میں مولویوں کے دست حق پرست پر تو یہ کر کے دوبارہ مسلمان ہوئے اور مولوی صاحب نے ان کی بیویوں سے دوبارہ پرتی ان کا نکاح پڑھایا۔نواکھالی کے اس جلسہ کو مولوی نے اپنی کامیابیوں کا پیش خیمہ قرار دے کر بڑے پیمانہ پر پاکستان کے خلاف پراپیگینڈا شروع کر دیا۔جمعیتہ علمائے ہند کے سربراہ مولوی حسین احمد مدنی اور ان کے شاگردان رشید، مریدان حتی پست اور دیگر خوار بین پورے مشرقی بنگال میں پھیل گئے۔مدنی صاحب ہر سال رمضان کے مہینہ میں سلوٹ آ جایا کرتے تھے اور عیاد کے بعد دیو بند واپس بھایا کرتے تھے سیلوٹ اور اس کے پاس مولوی صاحب کا کافی اثر تھا اسی لئے انہوں نے سلوٹ کو اپنا ہیڈ کواٹر قرار دے کر اپنے آدمیوں کو بنگال کے مختلف علاقوں میں بھیجنا شروع کیا مولوی صاحب کی امداد کے لئے ہندوستان کے مختلف علاقوں سے ہنڈوں