تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 478 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 478

۴۶۸ سے بھی ایسے حالات پیدا کر دیں گے جن میں پاکستان کا وجود ناممکن ہو کر رہ جائے گا۔پھر ان دپاکستان کا مطالبہ کرنے والوں) کو ٹھک کر ہمارے سامنے آنا ہوگا اور یہ درخواست کرنی ہوگی کہ ہمیں ہندوستان میں دوبارہ شامل ہونے کی اجازت عطا کی بجائے کہ ہے ۲۰۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے ہر جون کے پلان کی توثیق کرتے ہوئے حسب ذیل قرار داد منظور کی تھی :- جغرافیائی حالات نے پہاڑوں نے اور سمندروں نے ہندوستان کو ویسا ہی بنایا ہے جیسا کہ وہ اس وقت ہے، اور کوئی انسانی طاقت نہ تو اس صورت و ہیئت کو تبدیل کر سکتی ہے اور نہ ہی اس آخری صورت کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔۔۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی اس بات پر پورا پورا یقین رکھتی ہے کہ جب موجودہ جذباتی شدت میں کی آجائے گی تو مہند وستان کا مسئلہ اسی حقیقی تناظر میں دیکھا جائے گا اور دو قوموں کے مصنوعی نظریے کو تمام لوگ ساقط اور ترک کر دیں گئے یا لے ہندو مہا سبھا کی مجلس عاملہ کی قرار داد کے الفاظ یہ تھے :- " ہندوستان ایک وحدت ہے۔اور نا قابل تقسیم محدرت۔ہندوستان میں اس وقت تک امن قائم ہی نہیں رہ سکتا جب تک کہ الگ ہونے والے علاقوں کو انڈین یونین میں واپس نہ لایا بجائے اور انہیں ہندوستان کا لازمی حصہ نہ بنایا جائے اس ۴ - ۲۸ ستمبر ۱۹۴۷ء کو قیام پاکستان کے چھ ہفتے بعد فیلڈ مارشل آکنلک نے لندن ہیں اپنے افسران بالا کو ایک خفیہ پیغام میں لکھا:۔اس امر کی تصدیق ہیں میرے پاس شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ موجودہ انڈین کا بینہ اپنی ہرممکن کوشش اور طاقت کے ذریعے پاکستان کی مملکت کومستحکم بنیادوں پرکھڑا ہونے سے (VIDE KHALID BIN SAEED PAKISTAN FORMATIVE PHASE,” (KARACHI, 1960) P۔283)( VIDE V۔P۔MENON, "THE TRANSFER (CALCUTTA, 1957), P۔384 V۔P۔MENON, OP۔CIT۔P۔382 Youroy, OF POWER IN INDIA, سے