تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 442
م مهم یکی پولیس، فوج تمام سرکاری ملازموں، افسروں اور حکمرانوں کو یہ اطلاع دیتا ہوں کہ ایک دن آنے والا ہے جس کی خبر قرآن دے چکا ہے وہ دن قیامت کا ہے بہشت اور دوزخ میں سے ایک ٹھکانا منتخب کرنے کا ہے۔اب تم خود سورج لو کہ اگر تم نے ختم نبوت کے علمبرداروں پر گولیاں چلائیں تو تمہاراٹھی کا نا کہاں ہو گا یا یکی اس فتولی کا اعلان کرتا ہوں کہ ایسی حکومت کی حمایت حرام ہے جو ختم نبوت کے محافظوں پر گولی چلائے اے پکڑ لیں گے ۱۹۔جناب ماسٹر تاج الدین صاحب انصاری صدر واجہ ناظم الدین اگرایان کریں گے منتقده ۲۶ دسمبر ۱۹۵۲ء) کو و همکی دی کہ : مرکز بر مجلس احرار اسلام نے ختم نبوت کا نفرنس چنیوٹ اب جو دستوریہ کی رپورٹ شائع ہوئی ہے اس میں مرزائیوں کو اقلیتوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ہم نے حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دی ہے اگر ایک ماہ کے بعد بھی حکومت نے کوئی نوٹس نہ لیا تو پر ہم خود ہاتھ پاؤں ماریں گے اور میں طرح ڈوبنے والا سہارا دینے والے کی ہروہ پہلی چیزی نبولی کے ساتھ پکڑ لیتا ہے جو اس کے ہاتھ میں آتی ہے ہم بھی جہاں ہمارا ہاتھ پہنچے گا اسی چیز کو پکڑ لیں گے خواہ وہ ناظم الدین کا گریبان ہو یا کسی اور کا یہ گئے ۲۰ جناب مولانا سید ابوالحسنات محمد احمد صاحب قادری صدر البيس نوٹس کی آخری میعا قطعی ہے۔عمل پنجاب نے ۲۰ فروری ۱۹۵۳ء کو واضح کیا۔بائیس فروری کے بعد حکومت پاکستان کو ایک دن کی بھی ملت نہیں دی جائے گی یا مجلس عمل کے نوٹس کی میعاد آخری ہے اور اس میں مزید توسیع قوم کے بجذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے ا سے ے آزاد ۸ار فروری ۱۹۵۳ء مٹہ کالم عمر : سے "آزاد" لاہور ۱۶ جنوری ۱۹۵۳ء ص کالم عبد ه آزاد ۲۳ فروری ۶۱۹۵۳ ص :