تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 421 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 421

۱۱ سے مکان میں فروکش رہنے کے بعد ۳۰ احسان ۱۳۳۱ ہش / جون ۱۹۵۲ء کو قصر خلافت کی نئی عمارت میں منتقل ہو گئے۔پہلی رہائش گاہ سے روانگی کے وقت حضرت صاحبزاده مرته البشیر احمد صاحب ، حضرت صاحبزاده مرزا مر این احمد صاحب ، حضرت مولوی محمد الدین صاحب ، حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد نا حضرت خانی ضا مولوی فرزند علی صاحب نے اور دوسرے بزرگان سلسلہ کے علاوہ تحریک تجدید کے کارکنوں کی ایک خاصی تعداد موجود تھی بعضور نے موٹر میں سوار ہونے سے قبل حاضرین سمیت دعا فرمائی۔دعا ختم ہوتے ہی بزرگان مسلسلہ اور دوسرے احباب ایک مختصر راستے سے بغرض استقبال قصر خلافت پہنچ گئے چند منٹ بعد حضور بھی تشریف لے آئے اور دوبارہ دعا کرانے کے بعد قصر خلافت میں مبارک قدم رکھا عین اس وقت جبکہ حضورہ اس نئی عمارت میں رونق افروز ہوئے باران رحمت کا بھی نزول ہوا لیے استید نا حضر امیر المومنین الصلح الموعود کے حکم سے بیاہ ہجرت اثر خلافت لائبریری کا قیام مئی ۱۹۵۳ء میں حضور کی ذاتی لائبریری اور صدر انجین احمدیہ پاکستان کی مرکزی لائبریری یکجا کر دی گئی اور اسکے انچا ورج مکرم مولوی محمد صدیق صاحب فاضل واقف زندگی مقرر کئے گئے۔اس امر یہ ہی کے لئے قصر خلافت کے ساتھ ایک پختہ عمارت تعمیر کی گئی تھی جس کا جنوبی مقصد مشکل ہونے پر اس میں سب سے پہلے حضرت اقدس کی ذاتی کتب دفتر پرائیویٹ سیکرٹری سے لائی گئیں اور ان کو حضور کی اجازت سے بعض قواعد کے مطابق پبلک کے استفادہ کے لئے عام کر دیا گیا۔ازاں بعد ما و فتح ۳۳۲ پیش کر دسمبر ۱۹۵۳ء کو مرکزی لائبریری کا لڑ پر بھی پختہ عمارت کے شمالی کمرہ میں رکھ دیا گیا اور ایک ہزار سے زائد انگریزی کتابیں جو اب تک ٹرنکوں میں بند تھیں الماریوں میں ایک عمدہ ترتیب اور قرینہ سے لگا دی گئیں کہ جس سے علماء سلسلہ اور دوسرے صاحب علم و قلم اصحاب کو مطالعہ کرنے اور تحقیق تختص جاری رکھنے کی بہت سہولت پیدا ہو گئی۔اس طرح ربوہ میں اس عظیم انسان لائبریری کی داغ بیل پڑی جس کا تختیل حضرت امیر المومنین الصلح الموعود نے مشاورت ۳۳۱ میش/ ه بدر (قادیانی) نه ظهور ۱۳۳۱ پیش صف کے رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان بایت سال ۶۱۹۵۲-۶۱۹۵۳ ص۲، ص ۳۳ و ایضاً ۶۱۹۵۳-۱۹۵۴ منا، صلابه