تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 28 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 28

۲۲ نے احمد یہ مسجد پر قبضہ کرنے کے لئے سخت ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا اور یہ صاحب ان کے پشت پناہ بنے ہوئے تھے۔انہوں نے سب انسپکٹر پولیس ڈیرہ غازیخاں کو اکسایا کہ فریقین کے سر کر دہ لوگوں کی ضمانتیں لی جائیں نی اخوند صاحبہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اقدس میں ایک علیہ لکھا جس میں ان صاحب کی مخالفت کا ذکر کیا کہ ان کو اس قدر عناد ہے کہ اگر اُن کا بس پہلے تو مجھے قتل کر دیں اور ضمانت طلبی کا بھی ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی حضور نے اپنے مبارک ہاتھ سے اس عریضہ کی گشت پر جواب رقم فرمایا جس کا مفہوم یہ تھا کہ ہمیں گھرانا نہیں چاہیے دعاکی گئی ہے انشاء اللہ تعالیٰ اس کا جلد نیک نتیجہ ظاہر ہو گا اور جماعت کو چا ہیئے کہ ضمانت ہرگز نہ دیوے ہائی سجدہ چھوڑنی پڑے تو چھوڑ دی جاوے اور کسی احمدی کے مکان پر یا جماعت نمازوں کا انتظام کر لیا جاوے مگر جماعت کے کسی فرد کو ضمانت ہر گز نہیں دینی چاہئیے۔حضور کے اس جواب کے تھوڑے دنوں بعد اخوند امیر بخش خان لقمہ اجل ہو گئے اور صاحب ڈپٹی کمشنر نے سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈیرہ غازیخاں کی رپورٹ پر ایک مسلمان امی۔اسے میسی کو مقرر کر دیا کہ وہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں مصالحت کرا دے مگر کامیابی نہ ہوئی کی کشمکش جاری تھی کہ آخر دریائے سندھ کی طغیانی سے سارا شہر غرق ہو گیا اور نیا شہر آباد کیا گیا جس میں جماعت احمدیہ نے اپنی نئی مسجد تعمیر کرائی جونئے شہر میں سب سے پہلی مسجد بھی لیے یہ سجدہ فراخ اور کشادہ ہے اور شہر کے مرکزی اور بارونق حقہ میں واقع ہے مسجد میں لائبریری اور مربی سلسلہ کی رہائش کا بھی موجود ہے اور جمعہ کے علاوہ پیلیک جلسے بھی اسی میں منعقد کئے جاتے ہیں۔اخوند صاحب نے اپنے زمانہ ملازمت میں خوب پیغام حق پہنچایا۔آپ مبلغین سلسلہ کو بلوا کر تقریریں کراتے اور اخراجات خود برداشت کرتے تھے۔اپنے افسروں کو ہمیشہ جماعتی لٹریچر دینے مستقل چندوں کے علاوہ سلسلہ کی دیگر مالی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے تھے سلسلہ کے لٹریچر سے گہرا شغف تھا۔مرکزی اخبارات، رسائل اور کتب منگواتے اور فرماتے یہی ترکہ میں اپنی اولا کے لئے چھوڑ جاؤں گا۔جماعتی کاموں میں سرگرمی سے حصہ لیتے۔آپ کو اپنے رشتہ داروں اور دوسر روایات صحابہ الخیر مطبوعہ جلد ۳ ص ۱۳ بشارات رحمانیہ جلد اول من ۲ - من موقفه مولوى عبد الرحمن صام ينشر المعدوم اخلاق سے روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد ۳ ص ۱۳ - ۱۲۵ ) خود نوشت روایات اخوند محمد اکبر سمان صاحب ابد ١٣ به