تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 392
۳۸۳ احمدیت کے خلاف ملک کے طول و عرض میں غم و غصہ اور ہیجان پھیلایا جا رہا ہے کہ یہ کافروں کی جماعت ہے اور خارج از اسلام ٹولہ ہے۔یہ تمام لوگ جو اس اجتماع میں شامل ہوئے سوائے دو تین ہزارتی شائیوں کے جن کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا وہ احمدیت کے متعلق کیا تا شمات لے کر آئے باقی سارے لوگ یہ جانتے تھے کہ مرزا بشیر الدین محمود نے وہاں دولت کے خزانے تقسیم نہیں کرنے بلکہ اٹھا سلسلہ کے بعض شعبوں کے لئے امداد کی اپیل ہی کریں گے۔اور انہیں پیڑ ھی علم تھا کہ ملک کی اکثریت پر انہیں بے دین ظاہر کیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود ان کے امام نے بیعت کے وقت کہا تھا کہ خدمت دین اور اشاعت اسلام کے لئے ایک فعال جماعت کا قیام مقصود ہے اور تمہیں دین کی خدمت کے لئے ہر قسم کی جانی و مالی قربانی پیش کرنی پڑے گی۔جب انہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ دین کی خدمت کے لئے اپنے امام کی ہر آواز پر لبیک کہیں گے ، سفر کی صعوبتیں اور سینکڑوں روپیہ خرچ کر کے اپنے امام کا پیغام سننے کے لئے ربوہ پہنچے جہاں انہیں اپنے امام نے یہی درس دیا کہ تابعداری کر و خدا کی اس کے رسول محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی اور تمام دنیاوی امور اور زندگی کے ہر شعبہ کے لئے قرآن کریم کو مشعل راہ بناؤ۔قرآن پاک کو پڑھو اور اس پر عمل کر وہ تقوی اختیار کرو اور تعلق باللہ قائم کرو۔جوں جوں تم اللہ تعالیٰ کے تقریب ہوتے جاؤ گے تم میں تقولی پڑھنا جائے گا اور تم صحیح معنوں میں اللہ والے یعنی مومن بن جاؤ گے تمہاری دُنیاوی مشکلات اور رکاوٹیں تمہارے راستہ سے دُور ہو جائیں گی۔انہیں انکے امام نے کہا تمہیں یورپی ممالک کو اسلام کی آغوش میں لانا ہے میغین ان حلقوں میں کام کر رہے ہیں اور یورپ اسلام کی اہمیت سے آگاہ ہو چکا ہے۔کام کی رفتار کو تیز کرنے اور ضروری لٹریچر کی فراہمی کے لئے سرمایہ کی ضرورت ہے اور یہ سب کچھ دین کے لئے ہے۔اور آپ کے لئے یہ کیا کم سعادت ہوگی کہ یورپ آپ کے ذریعہ سلمان ہو جائے اور آپ دنیا میں خدمت دین اور اشاعت اسلام کرنے والی جماعت کہلاؤ۔اور کہا جب تم خدا کے ہو اور خدا تمہارا ہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دُنیا کے ساتھ اپنے دین کو بھی سنوارو۔یہ تھامر زالبشیر الدین محمود کا اپنی جماعت سے خطاب۔یہ تھا قادیان اور ربوہ سے متعلق لوگوں کا کفر و شرک جو اجتماع میں دیکھنے اور سنتے ہیں آیا۔(نامہ نگار خصوصی) لے لے بحوالہ الفضل (لاہور) مورخہ ۱۷ صلح ۳۳۲ اہش مث :